دیوبند 23/دسمبر (مہدی حسن عینی / ایس او نیوز) حلب میں بشار رجیم، روس اور ایران کی متحدہ فوجوں کے ذریعہ کی جارہی نسل کشی کے خلاف آج دیوبند میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں شامی صدر بشار الاسد کا پتلا نذر آتش کیا گیا۔
مجلس اتحاد ملت اور جسٹس اینڈ ڈیولپمینٹ فرنٹ کے زیر اہتمام اس احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں کی تعداد میں طلباء مدارس اور اہالیان شہر نے شرکت کی. بشار الاسد، پوتن اور ایران مردہ باد کے نعروں کے بیچ شامی صدر بشارالاسد کا پتلا پھونک دیا گیا. احتجاجی مجمع سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ حلب کا قتل عام انسانیت کا قتل ہے. دنیا کی مجرمانہ خاموشی یہ بتاتی ہے کہ لاکھوں انسانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے. اور یہ جارحیت و درندگی ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے.
علی گڑھ سے تشریف فرما مولانا ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ حلب کے بچوں، عورتوں اور معصوم انسانوں کی نسل کشی میں عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے.روس،ایران اور شامی افواج نے وہاں دہشت گردی کے نام پر نہتے بچوں اور عورتوں پر خطرناک بمباری کی ہے.جس سے پوری انسانیت شرمسار ہے.
اور اس قتل عام کی ذمہ داری اقوام متحدہ کی بھی ہے.
داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے نام پر معصوم انسانوں کا قتل عام سامراجی طاقتوں کی اجتماعی سازش کا نتیجہ ہے.اس کے پس پردہ صیہونی طاقتوں کا ہاتھ ہے. مجلس اتحاد ملت کے جنرل سکریٹری اطہر عثمانی نے کہا کہ حلب میں مسلمانوں کا نہیں انسانیت کا جنازہ نکالا گیا ہے. اور متحدہ افواج کی جانب سے معصوم،نہتے،بے گناہوں پر فوج کشی یہ بتلاتی ہے کہ شام میں دہشت گردی کے نام پر کوئی دوسرا ہی کھیل کھیلا جارہا ہے. جس میں خون صرف اور صرف بےگناہوں کا بہہ رہا ہے. مجلس اتحاد ملت حلب کے شہداء کے ساتھ اظہار تعزیت کرتی ہے. اور ان کے لئے بارگاہ ربی میں دعا کرتی ہے.
جسٹس اینڈ ڈیولپ مینٹ فرنٹ کے قومی کنوینر مہدی حسن عینی قاسمی نے بڑے ہی دکھ کے ساتھ یہ بتایا کہ شام کا شہر حلب پوری طرح تباہ کردیا گیا ہے. نہتے بچوں اور عورتوں پر مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے نتیجے میں ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں.. اور لاکھوں لوگ مفلوج ہوگئے ہیں.
تقریباً تیس لاکھ سے زائد شامی شہریوں کو اپنا وطن چھوڑ کر ترکی و دیگر ممالک میں جانا پڑا ہے. انہوں نے صدر جمہوریہ ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستان کی انسانی ہمدردی کی تاریخ دہراتے ہوئے شام اور روس کے سفیروں کو ملک بدر کریں. اور شام،روس،و ایران سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام تر سفارتی تعلقات ختم کرنے کا حکم نافذ کریں. معروف سماجی کارکن حاجی وسیم عثمانی نے پتلا نذر آتش کرتے ہوئے کہا کہ حلب کا قتل عام ہماری انسانی تاریخ کا انتہائی الم ناک باب ہے. اور ہم دیوبند کی عوام اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں. ساتھ ہی ہندوستانی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانی اقدار کا لحاظ کرتے ہوئے ان ممالک سے سفارتی تعلقات منقطع کریں. اخیر میں مفتی شوکت صاحب بستوی نے آیت کریمہ کا ورد کرتے ہوئے پرسوز دعا پر احتجاج کا اختتام کرایا.
اس تاریخی احتجاج کے موقعہ پر مولانا محمود بستوی، شاہنواز صدیقی،سفیان کاظمی،جنید کاظمی اسد اللہ ملک،یاسر طیب، افضال قریشی،گلبہار ملک،عمران ملک، سشیل جائسوال،امت کمار، مکیش کمار،پون کمار،مونو کمار،رشب تیاگی سمیت سینکڑوں طلباء اور ہندو مسلم باشندے موجود تھے.