بنگلورو،30؍جنوری(ایس اونیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ حق اطلاعات قانون کے تحت معلومات کا حصول معلومات کی حد تک ہی رکھا جائے اسے ہراسانی کا آلہ اور پیشہ نہ بنایا جائے۔آج کرناٹکا پبلک سرویس کمیشن سے متصل ماہتی سودھا کے دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ بعض لوگوں نے حق اطلاعات کے تحت دستاویزات طلب کرنا اور ان کے ذریعہ لوگوں کو بلیک میل کرنا اپنا پیشہ بنالیا ہے۔ضرورت پر اور عوامی مفاد کی خاطر اگر معلومات حاصل کی جائیں تو اس سے لوگوں کا فائدہ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حق اطلاعات قانون میں کہیں بھی آر ٹی آئی کارکن کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، لیکن کچھ لوگوں نے اپنے طور پر خود کو آر ٹی آئی کارکن تصور کرلیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے خود کو آر ٹی آئی کارکن قرار دیتے ہوئے اپنا وزیٹنگ کارڈ تک بھی بنوالیا ہے، تاکہ یہ دکھاکر لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا کرسکیں۔ سدرامیا نے کہاکہ وزراء اور افسران اگر کرپشن میں ملوث ہیں تو انہیں بے نقاب کیا جائے، کسی نے اس پر روک نہیں لگائی ہے، لیکن اس کا مقصد ان کی اور حکومت کی اصلاح ہونی چاہئے، لیکن حق اطلاعات کا کچھ لوگوں نے غلط استعمال شروع کردیا ہے، اور بلیک میلنگ کی حد تک بھی اتر آئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پچھلی یو پی اے حکومت نے حق اطلاعات، حق تعلیم ، غذائی ضمانت ،روزگار ضمانت وغیرہ کے انقلابی قوانین نافذ کئے ، ان قوانین کے ذریعہ ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کو اور مضبوط کیا گیا۔ منتخب نمائندوں سے مخاطب ہوکر سدرامیا نے کہا کہ انہیں حکومت کے معتمدین کے طور پر کام کرنا چاہئے، تاکہ انتظامیہ میں شفافیت برقرار رہ سکے۔ انہوں نے کہاکہ حق اطلاعات قانون کے تحت قائم انفارمیشن کمشنر کے عہدہ پر رہنے والے افسر اور ان کے انتظامیہ کیلئے اس قدر بہترین دفتر صرف کرناٹک میں ہے۔ 17کروڑ روپیوں کی لاگت سے یہ عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اس موقع پر سدرامیا نے انفارمیشن کمیشن کے موبائیل ایپ کا اجراء کیا۔ تقریب میں ریاست کے چیف انفامیشن کمشنر رہ چکے کے کے مشرا ،اے کے این نائک ، سابق انفارمیشن کمشنر تپے سوامی ، ویرو پاکشپا ، وی تنگا راجو ، رام نائک ، ڈاکٹر شیکھر ، ڈی سجانور کو تہنیت پیش کی گئی ۔ تقریب میں وزیر برائے تعمیرات عامہ ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا ، وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا، میئر جی پدماوتی، مرکزی انفارمیشن کمشنر سری دھر آچاریالو، ریاستی انفارمیشن کمشنر شنکر پاٹل ، ڈاکٹر سچیتن سورو پ اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔