ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / جیو انسٹی ٹیوٹ کو بہترین ادارہ کا درجہ نہیں : جاوڈیکر

جیو انسٹی ٹیوٹ کو بہترین ادارہ کا درجہ نہیں : جاوڈیکر

Fri, 27 Jul 2018 00:42:51    S.O. News Service

نئی دہلی:26/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)حکومت نے آج راجیہ سبھا میں واضح کیا کہ جیو انسٹی ٹیوٹ کو بہترین ادارہ کا درجہ نہیں دیا گیا ہے اور اسے صرف مفاہمت نامہ دیا گیا ہے جس میں تین برسوں میں اسے ایک بہترین اور ڈیمڈ یونیورسٹی کے طورپر قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ انسانی وسائل کو فروغ کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے وقفہ سوال کے دوران ایوان میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ نہیں۔ جیو انسٹی ٹیوٹ کو صرف مفاہمت نامہ جاری کیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن نے یہ پوچھا تھا کہ کیا جیو انسٹی ٹیوٹ کو بہترین ادارہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پرصرف یس یا نو میں جواب دیاجانا چاہئے۔اس پر مسٹر جاوڈیکر نے کہاکہ نو۔ اس سے پہلے وزیر نے کہاکہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے ستمبر 2017میں موجودہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں سے نئے بہترین اور ڈیمڈ یونیورسٹی قائم کئے جانے کے لئے درخواست طلب کی تھیں۔ اس پر سرکاری شعبہ کے 74، پرائیویٹ شعہ کے چالیس اور گرین فیلڈ پروجیکٹوں کے لئے گیارہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ اس طرح مجموعی طورپر 114درخواستیں ملیں۔ گزشتہ 9جولائی کو تین سرکاری اداروں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلور، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف تکنالوجی دہلی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف تکنالوجی بامبے کو بہترین ادارہ کا درجہ دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ تین اداروں کے لئے مفاہمت نامہ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے جن میں برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس، پلانی، منی پال ہائر ایجوکیشن اکیڈمی، دہلی اور گرینڈ فیلڈ زمرہ میں جیو انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔جیو انسٹی ٹیوٹ کو مفاہمت نامہ جاری کئے جانے کے تین برسوں کے اندر ایک اعلی اور ڈیمڈ یونیورسٹی کے طورپر قائم کیا جائے گا۔


Share: