پٹنہ یکم نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) بھوپال جیل میں بند آٹھ مشتبہ سیمی کارکنوں کے انکائونٹر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے اس انکائونٹر کو مسلم نوجوانوں کا قتل قرار دیتے ہوئے اس واقعے کو ملک کی عدلیہ، قانون اور جمہویت کا قتل قرار دیا ہے۔ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے بتایا ہے کہ بھوپال جیل میں تین سال سے سزا کاٹ رہے بے گناہ 8 مسلم نوجوانوں کا مدھیہ پردیش کی پولیس کے ذریعہ انکاؤنٹر کے نام پر قتل کردیا گیا ہے جو نہ صرف 8 مسلم نوجوانوں کا قتل ہے بلکہ اس ملک کی عدلیہ، قانون اور جمہوریت کا بھی قتل ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق ملک میں جب سے بھاجپا (سنگھ) کی حکومت آئی ہے تب سے ملک کی خفیہ ایجنسی نے تواپنی حد ہی پار کردی ہے۔ مسلم نوجوانوں کو جیل سے جبراً باہر نکال کر ان کا فرضی انکاؤنٹر کرکے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ملک کی عدالتی کارروائی کی بھی دھجیاں اڑانے کا سلسلہ شروع کردیا گیاہے۔ اس فرضی انکاؤنٹر میں مدھیہ پردیش کی پولیس کے ذریعہ 8 مسلم نوجوانوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے آج دن کے ۲؍بجے پٹنہ کے نیواجیت ہوٹل میں ایک ہنگامی میٹنگ بلاکر ملک کی خفیہ ایجنسی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہی حالت ملک کی خفیہ ایجنسی کرتی رہی تو ملک کو دو حصہ میں بٹنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ میٹنگ میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے کہا کہ جب سے بھاجپا (سنگھ) کی حکومت آئی ہے تب سے ملک میں ایک طرفہ کارروائی کا سلسلہ شروع کردیاگیا ہے اور مسلمانوں کو ہرمحاذ پرزدوکوب کیا جارہا ہے جسے برداشت کیا جانا مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن 8 مسلم نوجوانوں کو مدھیہ پردیش کی پولیس نے جیل سے باہر نکال کر انکاؤنٹر کیا ہے اُن سبھی نوجوانوں کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا اور وہ سبھی جلد رہا ہونے والے تھے۔ اسی دوران خفیہ ایجنسی اور پولیس انتظامیہ کی ملی بھگت اور سازش کے تحت سبھی بے گناہ مسلم نوجوانوں کا قتل کردیا گیا ۔ اس معاملے کی آل انڈیا مسلم بیداری کارواں سخت مذمت کرتا ہے اور پورے معاملے کو سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ لے جانے کی پہل کو پوری حمایت کرتا ہے ساتھ ہی مرکز کی مودی حکومت سے اس طرح کی ناپاک حرکتوں کو فوری بند کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ پر روک لگانے کی مانگ کرتا ہے۔ اگر مرکزی حکومت اور ملک کی خفیہ ایجنسی نے اس طرح کی گھناؤنی اور یک طرفہ کارروائی پر فوری روک نہیں لگایا تو ملک میں جنگ کی شکل پیدا ہوجائے گی اور اس کی ذمہ داری مرکز کی بھاجپا (سنگھ) حکومت پر جائے گی۔ کیوں کہ کسی بھی ملک میں کسی ذات مذہب کو زیادہ دنوں تک نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ مسٹرعالم نے کہا کہ جس طرح سے مرکزی حکومت اور ملک کی خفیہ ایجنسی نے سازش کے تحت بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں میں کئی کئی سالوں سے ڈال رکھا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی شبیہہ داغدار کرنے کے ساتھ ساتھ اس قوم کی ہرمحاذ پر کمر توڑ دی جائے تاکہ یہ قوم اس ملک میں سراٹھاکر نہیں جی سکے۔ ہمیں اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور ملک کی خفیہ ایجنسی کی یک طرفہ کارروائی پر قانونی لڑائی مضبوطی کے ساتھ لڑنی ہوگی تبھی جاکر ہمارے نوجوانوں کا مستقبل بچ پائے گا اور سنور پائے گا۔ اگر ہم اسی طرح فرضی انکاؤنٹر اور قتل و غارت گری کا کھیل دیکھتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ اس ملک میں ہمارا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں ملک کی سبھی سماجی، فلاحی اور ملی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مسلم قائد، رہنما، لیڈر اور دانشور طبقہ سے اپیل کرتا ہے کہ آپسی رنجش اور ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے کے سسٹم کو فوری روکیں اور ملک میں مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کی ہرمحاذ پر سازش رچ کر مسلمانوں کی شبیہہ اور مسلم نوجوانوں کو جیل میں ڈال کر ان کے مستقبل کو برباد کیا جارہا ہے اس کی قانونی اور زمینی سطح پر لڑائی کی شروعات کریں اور بیداری مہم چلائیں۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ یاد رکھئے ہمارا اتحاد ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے۔یہ پورا معاملہ طلاق ثلاثہ کے معاملے سے کم نہیں ہے اس پورے معاملے پرہمارے مسلم قائد اور رہنما کو اسدالدین اویسی اور جمعیۃ علماء ہند کی حمایت میں کھل کر سامنے آنے کی ضرورت ہے اور ایک مضبوط طاقت بن کر حکومت اور خفیہ ایجنسی کی دوغلی پالیسی کے خلاف لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔میٹنگ میں کارواں کے نائب صدر مقصودعالم پپو خان، اسعد رشیدندوی، جنرل سکریٹری شاہ عماد الدین سرور، قدوس ساگر وغیرہ بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگرمرکزی حکومت نے ان بے قصور 8 مسلم نوجوانوں کے فرضی انکاؤنٹر کی صحیح جانچ نہیں کرائی اورپورے معاملے کا خلاصہ نہیں کیا تو ملک گیر سطح پر تحریک چلایا جائے گا اور مرکز کی مودی حکومت کے ساتھ ساتھ خفیہ ایجنسی کو بھی مسلم مخالف ہونے کا سبق سکھایا جائے گا۔