نئی دہلی ،16؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت میں ہفتہ کو ہوئی جی ایس ٹی کونسل کی 24 ویں میٹنگ میں مصنوعات کے بین ریاستی نقل وحمل کے لیے ای و ے بل کو لازمی کئے جانے کو منظور کر لیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یکم جون 2018 سے ای وے بل پر تعمیل کرنا ضروری ہوگا ۔ 15 جنوری سے ای وے بل کے سافٹ ویئر کا ٹرائل شروع ہو گا، جبکہ تمام ریاست 1 فروری سے انٹر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پر اس کو نافذ کرسکیں گی ۔ وہیں 1 جون سے ای و ے بل انٹرا اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پر بھی لاگو ہوگا۔ جی ایس ٹی نظام میں ای وے بل کا آغاز ٹیکس چوری روکنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ اکتوبر مہینے میں جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس وصولی میں ہوئی کمی کی بڑی وجہ حکومت نے ٹیکس چوری کو بھی بتایا ہے۔ اس کے بعد ہی ای وے بل نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اکتوبر میں جی ایس ٹی وصولی83.346 کروڑ روپے رہی جو کہ ستمبر کے 95.152کروڑ روپے کی وصولی سے کافی کم ہے۔وضح ہو کہ ای وے بل وہ نظام ہے جس کے تحت اگر کسی چیز کی ایک ریاست سے دوسری ریاست یا پھر ریاست کے اندر اندر نق و حمل ہوتی ہے تو سپلائر کو ای وے بل بنانا ہوگا ۔نئے نظام میں50.000 روپے سے زیادہ کی قیمت کی اشیاء لانے اور لے جانے کے لیے ای وے بل کو لازمی سمجھا گیا ہے ۔ کسی ایک ریاست کے اندر دس کیلو میٹر کے دائرے میں سامان بھیجنے پر سپلائر جی ایس ٹی پورٹل پر اس کا تفصیلات ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔