ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جوہری توانائی سے چلنے والا بحری جہاز، ایران کی آئی اے ی اے سے مدد طلب

جوہری توانائی سے چلنے والا بحری جہاز، ایران کی آئی اے ی اے سے مدد طلب

Tue, 20 Dec 2016 13:23:13    S.O. News Service

واشنگٹن ،19دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران نے جوہری توانائی سے چلنے والے بحری جہازوں کا بیڑا تیار کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے اِی اے)سے مشورہ مانگا ہے اور مدد کے لیے کہا ہے۔ یہ بات حکومت ایران کی ویب ٹائٹس پر اتوار کے روز شائع ہونے والی خبروں میں بتائی گئی ہے۔ویب سائٹوں پر بتایا گیا ہے کہ یہ درخواست ’’آئی اے اِی اے‘‘کے ڈائریکٹر جنرل، یکیو امانو کے دورہ تہران کے موقع پر سامنے آئی، جس دورے کا مقصد تاریخی جوہری سمجھوتے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد کی جانچ پڑتال کرنا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی تعزیرات اٹھائے جانے کے بدلے، جوہری ہتھیار میں کمی لانا تھا۔ویب سائٹوں کے حوالے سے ’’اے ایف پی‘‘نے خبر دی ہے کہ صدر حسن روحانی نے امانو کو بتایا کہ اُنھیں توقع ہے کہ ایران اور جوہری توانائی کا عالمی ادارہ مال برداری کے لیے جوہری توانائی سے چلنے والے بحری جہازوں کی تیاری کے معاملے پر بہتر تینیکی تعاون کر سکتے ہیں۔گذشتہ ہفتے ایران نے جوہری جنبش کے نظام سے چلنے والے بحری جہاز تیار کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جو بظاہر امریکی کانگریس کی جانب سے کیے گئے اقدام کا جواب تھا۔ کانگریس نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ اگر ایران جوہری سمجھوتا ختم کرتا ہے تو اُس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ہر فریق اس بات پر زور دیتا ہے کہ اُس کا اقدام سمجھوتے کی خلاف ورزی کا باعث نہیں ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے تجویز کردہ ’’نیوکلیئر پروپلشن سسٹم‘‘کے لیے یورینئم کی انتہائی افزودگی درکار ہوگی، جو معاملہ سمجھوتے کے تحت اجازت دی گئی حدود سے تجاوز کے مترادف ہو سکتا ہے۔


Share: