نئی دہلی،24؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)متعدد ریاستوں کی طرف سے فلم 'پدماوت کی ریلیز کرنے سے سکیورٹی کے خدشات ظاہر کئے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج یہ کہہ کر مرکز کی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا کہ جب وہ ایک فلم کو بحفاظت ریلیز کرکے اس کو چلا نہیں سکتی ہے، تو اس سے ملک میں سرمایہ کاری لانے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔کیجریوال نے کہا کہ اگر تمام ریاستی حکومتیں، مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ ساتھ مل کر بھی ایک فلم کو سلامتی سے ریلیز کرکے نہیں چلاسکتے ہیں، تو ہم ایسے حکومت سے ملک میں سرمایہ کاری کرانیکی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟ ایف ڈی آئی کو تو آپ بھول ہی جائیں، مقامی سرمایہ کار سلامتی کی وجوہات سے ہچکچاہٹ محسوس کریں گے۔ یہ رجحان ملک کی زوال پذیر معیشت کے لئے اچھا نہیں ہے اور روزگار کے لئے نقصاندہ ہے۔وزیر اعلی اروند کیجریوال کا یہ ردعمل ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک بھر میں کرنی سینا دھرنے مظاہرے کر کے فلم پدماوت کی ریلیز پر روک لگانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ سنیما ہال کے مالکان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے سکیوٹی کے خدشات ظاہر کئے گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایتکاری اور دیپیکا پاڈوکون، شاہد کپور نیز رنویر سنگھ کی اداکاری پر بننے والی متنازعہ فلم 25 جنوری کو ریلیز ہونے والی ہے۔ یہ فلم ملک محمد جائسی کی رزمیہ نظم (پدماوت 1540) میں بیان کی گئی کہانی پر بنائی گئی ہے۔ جس میں راجپوت ملکہ پدماوتی نے حملہ آور شاہ علاء الدین خلجی کے چنگل سے بجنے کے لئے رسم جوہر کے تحت جان دے دی تھی۔ اس فلم پر اعتراض کئے جانے کے بعد اس کا نام ’پدماوتی‘سے بدل کر پدماوت کردیا گیا تھا، جس پر قومی فلم سرٹیفکیشن بورڈ نے منظوری دی تھی۔