منگلورو 17؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاستی الیکشن کاموسم قریب آتے ہی ساحلی کرناٹکا میں جہاں فسطائی طاقتوں کی جانب سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں، وہیں پر باہمی یگانگت اور مذہبی رواداری کی ایک تازہ مثال ضلع جنوبی کینرا کے ایک قصبے 'اولیمنڈاو'میں سامنے آئی ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق اولیمنڈاو میں واقع سری وشوا مورتی مندرٹرسٹ کے چیف موہن رائے نے اپنی ذاتی ملکیت والی 12سینٹ (486 اسکوائر فٹ) خالی زمین گاؤں کی مسجد کی توسیع کے لئے عطیہ کردی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصے پہلے مسجد اور درگاہ کے ذمہ داران نے موہن رائے کے پاس درخواست دی تھی کہ مسجد میں نمازیوں کے لئے جگہ بہت کم پڑرہی ہے، اس لئے مسجد سے متصل اس کی جو خالی زمین ہے اس میں سے کچھ حصہ مسجد اور درگاہ کے لئے عطیہ کے طور پر دیا جائے۔ اس کے بعد دو دن قبل موہن رائے نے خود مسجد میں پہنچ کر زمین عطیہ کرنے کی اطلاع مسجد کے ذمہ داران کو دی ہے۔ موہن رائے کے اس اقدام کی ہندوؤں اور مسلمانوں کی طرف سے خوب ستائش کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موہن رائے بہت ہی مخلص انسان ہے اور مسلمانوں کے ساتھ اس کے بڑے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔وہ درگاہ کے عرس میں بھی باقاعدگی سے شریک ہوتے ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیاستدان قوموں کے اندر تفریق ڈالنے کا کام کرتے ہیں، جبکہ موہن رائے جیسے لوگ اپنی وسعت قلبی کی وجہ سے نفرت کی سیاست کو منھ توڑ جواب دیتے ہیں۔
موہن رائے جو ایک مالدار کسان ہے اس کی ملکیت میں بہت زیادہ زمین ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ "بھگوان ایک ہی ہے اور چاہے کسی بھی شکل میں اس کی عبادت کی جاتی ہو، اس کا احترام کیا جاناچاہیے۔بھگوان نے مجھے ہر چیز سے نوازا ہے اور میں نے بس تھوڑی چیز اسے لوٹائی ہے۔لوگوں کو مذہب کی بنیا د پر لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے کسی کا بھی بھلا نہیں ہوتا۔"
رنجیلاڈی اسلامک سینٹر کے کنوینر کے آر حسین نے اسے ایک یادگار دن قراردیتے ہوئے کہا کہ "میرا یقین ہے کہ ہم آہنگی اس ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اور رائے نے آج اس کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ پوری مسلم کمیونٹی رائے کی ممنون ہے۔"