بنگلورو20؍ستمبر(ایس او نیوز)وزیر اعلیٰ سدرامیا کے خلاف بارہا بیانات دینے والے کانگریس لیڈران جناردھن پجاری اور ایچ وشواناتھ کے خلاف تادیبی کارروائی کیلئے تمام تفصیلات اے آئی سی سی کو فراہم کی جاچکی ہیں۔ یہ بات آج کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جناردھن پجاری کے بیانات سے بار بار پارٹی کی ساکھ مجروح ہورہی ہے۔ ان کے بیانات کے متعلق پارٹی قیادت کو آگاہ کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں منعقدہ کے پی سی سی کور کمیٹی اجلاس کے دوران ہی تمام لیڈران کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ برسر عام بیان بازی نہ کی جائے۔ اس کے باوجود بھی جناردھن پجاری کی طرف سے وزیراعلیٰ سدرامیا اور پارٹی قیادت پر حملے برقرار ہیں ،جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے خود تمام لیڈران سے کہاتھاکہ وہ حکومت یا پارٹی کے متعلق بیان بازی ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اور اگر حکومت سے کچھ ناراضگی ہے تو پارٹی کے محاذ پر اپنی ناراضگی ظاہر کریں نہ کہ میڈیا میں۔ اس کے باوجود بھی جناردھن پجاری نے میڈیا میں بیان بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور ساتھ ہی ایچ وشواناتھ نے بھی وزیراعلیٰ سدرامیا کے خلاف اپنے بیانات میں شدت اختیار کرلی۔ سابق وزیر کے جے جارج کی ریاستی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کے متعلق خبروں پر بھی جناردھن پجاری اور وشواناتھ کے ردعمل کا اعلیٰ کمان نے سخت نوٹس لیا ہے۔ مرکز میں بی جے پی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعدملک بھر میں اقلیتوں اور دلتوں پر حملوں کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ ملک بھر میں پھیلی عدم رواداری کی فضا کو دور کرنے میں مصروف ہونے کی بجائے مرکزی حکومت عدم رواداری کو اور وسعت دینے کا کام کررہی ہے۔کانگریس ملک کے عوام میں اس ضمن میں بیداری لانے کیلئے پہل کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی آج بھی آر ایس ایس کے اصولوں پر کار بند ہے۔ جہد آزادی سے دور رہنے والے آر ایس ایس کے پیرو کار ہونے کے ساتھ وہ قومی رہنماؤں گاندھی جی، امبیڈکر اور نارائن گرو جیسوں کی پیروی کرنے کا ناٹک کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہا بی جے پی نے جس طرح آر ایس ایس کا دفاع کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کی اپنی ذمہ داری میں بی جے پی بحیثیت حکومت ناکام رہی ہے۔ میٹنگ میں ریاستی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر شیوشنکر ریڈی، پارٹی لیڈر بی ایل شنکر، وائی سمپنگی اور دیگر موجود تھے۔