نئی دہلی، 8 ؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج ایک مفاد عامہ کی عرضی پر اگلے ہفتے سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی جس میں جموں کشمیر کے علیحدگی پسندوں کو ہندوستان کے جمع فنڈ سے رقم جاری کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہونے کا اعلان کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔جسٹس اے آر دوے اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی بنچ نے کہا کہ پٹیشن کو سماعت کے لئے 14ستمبر کو رکھا جائے۔یہ ہدایت اس وقت آئی جب مفاد عامہ عرضی کرنے والے وکیل ایم ایل شرما نے عدالت کے سامنے اس کا ذکر کیا۔درخواست میں علیحدگی پسندوں کو فنڈ کی مبینہ تقسیم کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی گئی۔درخواست میں کہا گیا کہ ملک کے خلاف کام کرنے والے علیحدگی پسند گروپ کو حمایت دینے کے لئے حقوق اور جائز اجازت کے بغیر ہندوستان کے جمع فنڈ سے فنڈ جاری کرنے کو غیر آئینی، غیر قانونی اور آئی پی سی کی دفعہ 409کے تحت مجرمانہ غداری قرار دیا جائے۔وزارت داخلہ، جموں کشمیر حکومت اور سی بی آئی کو اس معاملے میں فریق بنانے والی درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ اس معاملے میں عوامی دفاتر اور فنڈ کے غلط استعمال کے لیے بدعنوانی کا معاملہ بنتا ہے۔اس میں وزارت داخلہ اور جموں کشمیر حکومت کو ہدایت دے کر ان سے کسی بھی طرح ہندوستان کے جمع فنڈ یا خطے کی آمدنی سے کسی بھی قسم کا فنڈجاری نہیں کرنے کے لئے کہنے کی درخواست کی گئی ہے۔پٹیشن میں یہ بھی درخواست کی گئی کہ اس سلسلے میں سی بی آئی کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی جائے۔