نئی دہلی، 27/اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) جموں و کشمیر اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے اتحاد نے سیٹوں کی تقسیم کا مرحلہ طے پا لیا ہے۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے درمیان 85 سیٹوں پر معاہدہ طے پایا ہے، جبکہ 5 سیٹوں پر دوستانہ مقابلہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ آج دہلی میں ہوئی ایک میٹنگ کے دوران سیٹوں کی تقسیم پر سبھی پارٹیوں میں اتفاق قائم ہوا اور پھر اس پر مہر ثبت کر دی گئی۔
جموں و کشمیر میں اسمبلی کی 90 نشستیں ہیں، جن میں سے کانگریس کو 32 سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا موقع مل رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کو 51 نشستیں اور سی پی ایم و پینتھرس پارٹی کو 1-1 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ بقیہ 5 نشستوں پر دوستانی لڑائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام اس خطہ میں نیشنل کانفرنس کے مقابلے کانگریس کو کم سیٹیں ضرور حاصل ہوئی ہیں، لیکن پارٹی مضبوط امیدوار اتارنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر جیت حاصل ہو سکے۔
بہرحال، سیٹوں کی تقسیم ہونے کے بعد فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم نے سازش رچنے والی طاقتوں کے خلاف لڑائی شروع کر دی ہے اور انڈیا اتحاد اسی کے لیے بنایا گیا تھا۔ آج کی میٹنگ خیر سگالی والے ماحول میں ہوئی۔ بی جے پی نے کشمیر کے انتخاب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، لیکن انڈیا اتحاد اور ہم جموں و کشمیر کو بچانے کے لیے حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہم ایک ساتھ لڑائی لڑیں گے اور ہم وہاں حکومت بھی تشکیل دیں گے۔ بی جے پی نے پہلے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا، جبکہ کانگریس پہلے بھی نیشنل کانفرنس کے ساتھ تھی اور اب بھی اس کے ساتھ ہے۔ بی جے پی نے جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام خطہ بنا کر وہاں کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔