بنگلورو،26؍جنوری(ایس او نیوز) ریاستی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس وشواناتھ شٹی کو ریاست کا لوک آیوکتہ مقرر کردیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں وضاحت کے بعد گورنر نے جسٹس وشواناتھ شٹی کے تقرر کی فائل پر دستخط کردئے۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ ایک سال سے مخلوعہ لوک آیوکتہ ادارہ کے سربراہ کا تقرر ہوگیا ۔ ریاست میں کرپشن پر روک لگانے کیلئے لوک آیوکتہ ادارہ جو بے جان ہوچکا تھا ،اب جسٹس شٹی کے تقرر سے اس میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ریاستی حکومت کی طرف سے جسٹس وشواناتھ شٹی کو لوک آیوکتہ مقرر کرنے کے سلسلے میں اعلیٰ اختیاری کمیٹی کی متفقہ سفارش پر مشتمل فائل گورنر کو روانہ کی گئی تھی، اس سلسلے میں چند وضاحتیں طلب کرتے ہوئے گورنر نے دستخط کے بغیر حکومت کو لوٹا دی تھی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے چند وضاحتوں کے بعد یہی فائل دوبارہ راج بھون پہنچائی گئی ، بالآخر گورنر نے جسٹس شٹی کے تقرر پر اپنی مہر ثبت کردی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اس سے پہلے لوک آیوکتہ کے عہدہ کیلئے جسٹس ایس آر نائک سمیت دیگر چند نام بھی تجویز کئے گئے تھے، لیکن مختلف وجوہات کے سبب ان ناموں پر اتفاق نہیں ہوپارہاتھا۔ تاہم گزشتہ ماہ منعقد اعلیٰ اختیاری کمیٹی میٹنگ میں جسٹس وشواناتھ شٹی کے نام پر اتفاق ہوا اور اسی نام پر مشتمل فائل گورنر کو بھیجی گئی تھی۔ جیسے ہی ان کا نام سامنے آیا سماج پرورتن سمودایہ کے سربراہ ایس آر ہیرے مٹھ نے الزام لگایا کہ جسٹس وشواناتھ شٹی نے جھوٹا حلف نامہ دے کر جوڈیشیل لے آؤٹ میں سائٹ حاصل کی ہے، غالباً اسی وجہ سے گورنر نے گزشتہ ہفتہ جسٹس شٹی کے نام کو منظوری دئے بغیر فائل حکومت کو لوٹا دی، تاہم حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں وضاحت کے بعد گورنر نے اس فائل پر دستخط کردئے۔