ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جس طرح سونا تپ کر کندن بنتا ہے، ڈی ایم اسی طرح ابھراہے: اسٹالن

جس طرح سونا تپ کر کندن بنتا ہے، ڈی ایم اسی طرح ابھراہے: اسٹالن

Fri, 22 Dec 2017 23:16:34    S.O. News Service

چنئی،21؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن نے کہا کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے میں فیصلہ ان لوگوں کے لئے زبردست دھچکا ہے جو پارٹی کو داغدار کہہ رہے تھے ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر کنی موجھی اور اے راجا کے اس معاملے میں بری ہونے پر ستایش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی اب اس طرح ابھر کر سامنے آئی ہے جیسے سونا تپ کر کندن بن کر سامنے آیا ہو۔ اس فیصلے میں خصوصی جج کی جانب سے کئے گئے کچھ تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قومی سطح پر ڈی ایم کو بدنام کرنے کے ارادے سے یہ سازش کی گئی تھی ۔ ڈی ایم کے ایگزیکٹو صدر نے پارٹی کارکنان کے نام سے لکھے گئے مکتوب میں کہا کہ بے بنیاد جھوٹے الزامات کو لے کر توہین اور بہتان کے سامنا کے بعد ڈی ایم بری ہوئی ہے اور جس طرح سونا تپ کر مجسم کندن بنتا ہے، اسی طرح وہ سات سال بعد تپ کر کندن بن کر ابھری ہے۔ دہلی کی ایک خصوصی عدالت کی طرف سے پارٹی رہنماؤں راجیہ سبھا رکن کنی موجھی اور سابق وزیر مواصلات اے راجا کو بری کئے جانے کے اگلے دن سٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے کو ہمیشہ ہی یقین تھا کہ ایک دن سچائی دنیا کے سامنے ضرور آئے گی اور وہ تاخیر سے ہی سہی ؛ لیکن دنیا نے شر پسندانہ سیاست کی حقیقت کو دیکھ لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر مواصلات اے راجہ نے معاشرے کے غریب طبقوں کی فلاح و بہبود کے ارادے سے ٹو جی اسپیکٹرم میں ترقی پسند طریقے اپنائے اس وقت موبائل فون صارفین کی تعداد بڑھی اور کال قیمتیں سستی ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ونود رائے نے اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں 1.76 لاکھ کروڑ روپے کے متوقع نقصان کا الزام عائد کیا اور اس مفروضہ کو مفاد پرستانہ سیاست نے خوب ہوا بھی دی ۔ اسٹالن نے 2011 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سیاسی انتقام کے جذبے سے میڈیا کے ذریعہ اس پروپیگنڈہ کو خوب ہوادی اور پھر الیکشن میں انہوں نے اس کو ایشو بناکر انتخابی مہم میں کود پڑے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ پارٹی صدر اور ان کے والد ایم کروناندھی کو جب اس مقدمہ کے فیصلہ سے آگاہ کیا گیا تو تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے۔


Share: