ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تین طلاق کے مسئلہ پر جواب دینے کے لیے عدالت کا مرکز کو 4 ہفتے کا وقت

تین طلاق کے مسئلہ پر جواب دینے کے لیے عدالت کا مرکز کو 4 ہفتے کا وقت

Tue, 06 Sep 2016 12:34:48    S.O. News Service

نئی دہلی، 5 ؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )تین طلاق اور مسلم خواتین کی حالت پر داخل درخواستوں پر جواب دینے کے لیے سپریم کورٹ نے آج مرکز کو چار ہفتوں کا وقت دیا۔ جسٹس تیرتھ سنگھ اور جسٹس دھننجے چندرچوڑ کی بنچ نے مرکز کو چار ہفتوں کا وقت دیا جب ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے جواب دینے کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا۔2 ؍ستمبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سماجی اصلاحات کے نام پر اور طلاق کے معاملات میں مسلم خواتین کے ساتھ مبینہ جنسی عدم مساوات سمیت دیگر مسائل پر مخالف اپیلوں کی وجہ سے اسلامی قوانین کو دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔سپریم کورٹ میں داخل اپنے جوابی حلف نامے میں بورڈ نے کہا کہ ایک سے زیادہ شادی، تین طلاق اور نکاح و حلالہ کے اسلامی قوانین سے متعلق پیچیدہ معاملے قانون سازی پالیسی کے معاملے ہیں اور ان میں مداخلت نہیں کی جا سکتی ۔بورڈ نے یہ بھی کہا کہ شادی، طلاق اور گزارہ بھتہ کے مسائل پر مسلم پرسنل لا ء کے ذریعہ مہیا کرائے گئے قوانین قرآن کریم سے مستنبط ہیں اور قرآن کریم کے نصوص پر عدالتیں اپنی تشریحات نہیں کر سکتیں۔تعددازدواج کے سلسلہ میں بورڈ کے حلف نامے میں کہا گیا کہ حالانکہ اسلام نے اس کی اجازت دی ہے لیکن وہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔اس نے عالمی ترقی رپورٹ 1991سمیت مختلف رپورٹوں کا حوالہ دیا ، جن میں کہا گیا ہے کہ تعددازدواج کا فیصد قبائلیوں میں 15.25، بدھ مت کے پیروکاروں میں 7.97اور ہندوؤں میں 5.80فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ فیصد صرف 5.73فیصد ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ دیگر رپورٹیں بھی مسلمانوں کے تین طلاق کے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئیں ہیں جن میں تین طلاق کی شکار سائرہ بانو کی درخواست بھی شامل ہے۔بورڈ اور جمعیتہ علماء ہندنے تین طلاق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن کریم پر مبنی مسلم پرسنل لاء کا حصہ ہے جو عدالتی جانچ کے دائرے سے باہر ہے۔حالانکہ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ یہ شادی کو ختم کرنے کا وہ طریقہ ہے جس کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے لیکن پھر بھی یہ مؤثر ہے اور اسلامی قانون کے مطابق ہے۔بورڈ نے یہ بھی کہا کہ آئین کا حصہ تین فریق کے خصوصی قوانین سے الگ تھلگ ہے اس لیے سپریم کورٹ مسلم پرسنل لاء میں شادی، طلاق اور گزارہ بھتہ کے طریقوں کی آئینی حیثیت کے سوال کا مطالعہ نہیں کر سکتا۔بورڈ نے یہ بھی کہا کہ مسلم پرسنل لاء کے تمام ذرائع کو قرآن کریم کی منظوری اور اجازت ہے۔


Share: