بھٹکل 25اکتوبر(ایس او نیوز) مسلمانوں کے درمیان ایک ساتھ تین طلاق پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کے ایک دن بعد آج آر ایس ایس نے کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ مسلمانوں کا اندرونی معاملہ ہے اور اس تناظر میں مسلم کمیونٹی کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ آر ایس ایس کے آل انڈیا جنرل سکریٹری بھیاجوشی نے حیدرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم خواتین اس معاملے پر عدالت گئی ہیں۔ موجودہ دور میں جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔تین طلاق کے معاملے پر خواتین عدالت میں گئی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ان کو مناسب انصاف ملے گا۔آرایس ایس کی تین روزہ آل انڈیا ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے آخری دن جوشی نے کہاکہ مسلم کمیونٹی کو اس پر سوچنا اور فیصلہ کرنا چاہئے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ عدالت کو اس معاملے پر انسانی نقطہ نظر سے اپنی رائے دینا چاہئے۔
اُدھر ۔تین طلاق کو لے کر چل رہی بحث کے درمیان بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست اور کچھ دیگر ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مد نظرتین طلاق اور ایک یکساں سول کوڈ جیسے شریعت سے منسلک مذہبی مسائل لے کر نیا تنازعہ کھڑا کر رہی ہے جوکہ انتہائی قابل مذمت ہے۔مرکزی اطلاعات و نشریات کے وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت اور بی جے پی تین طلاق کی رسم کو ختم کرنے کے حق میں ہیں کیونکہ یہ عورتوں کے خلاف امتیازی اور مساوات کے آئینی حق کے خلاف ہے۔
مایاوتی نے لکھنؤ میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جب سے مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی مکمل اکثریت کی حکومت بنی ہے تب سے بی جے پی آر ایس ایس کے تنگ، فرقہ وارانہ اور شدت پسندی کے ایجنڈے کو کسی نہ کسی طور پر ملک کے لوگوں پر مسلط کرنے میں لگی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ تازہ تنازعہ میں مسلم پرسنل لاء اور تین طلاق کے شریعت سے متعلق مسائل اور نہایت ہی حساس یکساں سول کوڈ کے مسئلے کو چھیڑا گیا ہے۔اس سے پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے اقلیتی تعلیمی ادارے ہونے کا درجہ چھین کر ایک سلجھے ہوئے معاملے کو دوبارہ سے شروع کرتے ہوئے تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے مسلم پرسنل لاء، تین طلاق اور یکساں سول کوڈ وغیرہ کے مسئلہ کو نیا تنازعہ کھڑا کرکے اس کی آڑ میں گھنونی سیاست شروع کر دی ہے، جس کی بی ایس پی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ کسی مذہب سے جڑے سوال پر اس مذہب کو ماننے والے لوگوں کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے اور مسلم پرسنل لاء اور تین طلاق اور یکساں سول کوڈ وغیرہ کے معاملے کو بھی اسی نظریے سے دیکھا جائے۔