ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تہران:سعودی سفارتخانے پر حملے کے ملزمان باعزت بری

تہران:سعودی سفارتخانے پر حملے کے ملزمان باعزت بری

Fri, 04 Nov 2016 12:03:34    S.O. News Service

تہران،3نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کی ایک عدالت نے رواں سال 2جنوری کو تہران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر یلغار کرنے کے لیے درجنوں ملزمان کو باعزت بری قرار دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ایلنا‘‘کی رپورٹ کے مطابق تہران کی ایک مقامی عدالت نے سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار کرنے میں ملوث 45افراد کو بری قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سعودی سفارت خانے میں توڑپھوڑ، اس میں آگ لگانے، عملے کو یرغمال بنانے اور بدنظمی پھیلانے کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان 45افراد میں پاسیج ملیشیا کے 20ارکان بھی شامل ہیں جو ماضی میں شام میں بشارالاسد کے دفاع میں لڑائی میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔بری ہونے والے تمام ملزمان نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سعودی سفارت خانے پر یلغار کے وقت پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے انہیں روکا نہیں۔ یہی دعویٰ سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کے ایک منصوبہ ساز حسن کرد نے بھی عدالت کے روبر بیان دیتے ہوئے کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے صدر حسن روحانی کے نام لکھیگئے ایک مکتوب میں کہا تھا کہ پولیس نے بلوائیوں کو سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار کے لیے خود مہلت اور سہولت مہیا کی تھی۔

ایرانی وکلاء کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پریلغار کرنے والے 25مذہبی عناصر کا ٹرائل مذہبی عدالت ہی میں میں کیا گیا مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا اس کارروائی کے ماسٹر مائنڈ حسن کرد میھن کے خلاف بھی اسی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے یا نہیں۔ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملہ کیس کے ایک وکیل دفاع مصطفیٰ شعبانی کا کہنا ہے کہ عدالت نے ریاستی نظام میں خلل ڈالنے کے الزام میں بعض افراد کو تین سے چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے مگر عدالتی فیصلے میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ایا ملزمان اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں یا نہیں۔مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی عدالتوں کی طرف سے 11ماہ تک سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کا کیس لٹکائے رکھا اور ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی گئی۔ ایرانی عدالتوں کی طرف سے سعودی سفارت خانے پرحملہ کیس سنجیدگی سے لیا ہی نہیں کیا۔ اصلاح پسندوں کے مقرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ عدالتیں پاسدران انقلاب اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب شدت پسند گروپوں کے دباؤ کا شکار رہی ہیں۔ دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے ایک برائے نام مقدمہ چلایا گیا اور حملیکے حقیقی کرداروں اور پاسداران انقلاب کیاہلکاروں کو سزاؤں سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایران کی سپریم جوڈیشل کونسل کیترجمان غلام حسین محسنی ایجی نے رواں سال مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے میں ملوث گرفتار تمام 154افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد شہر میں قائم قونصل خانے پر شدت پسند ایرانی بلوائیوں نے حملہ کرکے دفاتر میں توڑپھوڑ کے ساتھ سفارت خانے کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے پرعرب اور مسلمان ملکوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ سعودی عرب نے ایران سیسفارتی تعلقات منطقع کرلیے تھے جس کے بعد کئی دوسرے خلیجی اور عرب ممالک نے بھی ریاض کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تہران سے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔


Share: