بنگلورو۔23/جنوری(ایس او نیوز) عدالت کے حکم کے مطابق اب تمام مسافر گاڑیوں میں لازمی طور پر جی پی ایس آلے کی تنصیب کا حکم صادر کردیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے پہلے ہی مرکزی علاقوں میں یہ نظام لاگو کردیا ہے۔ ریاستوں میں بھی اس نظام کو لاگو کرنے کیلئے ضروری ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ مرکزی وزیر بری نقل وحمل نتن گڈکری نے اس سلسلے میں ریاستی وزرائے ٹرانسپورٹ کے ساتھ جی پی ایس کی تنصیب کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا،جس کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تمام کمرشیل مسافر گاڑیوں میں جی پی ایس لگانے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس فیصلے کے مطابق لاری، کار، بسوں، ٹیکسی، آٹو رکشا اور مالبردار گاڑیوں میں لازمی طور پر جی پی ایس آلہ لگے گا، دہلی میں بہت پہلے ہی گاڑیوں میں جی پی ایس آلے کی تنصیب کا لزوم کردیاگیا ہے۔مرکزی حکومت کا خیال ہے کہ ملک کی ہر گاڑی پر اگر جی پی ایس آلات کے ذریعہ نظر رکھی جائے تو ان کی رفتار حکومت کی نگرانی میں رہے گی اور ساتھ ہی اس گاڑی کے مقام کا پتہ گاڑی کے مالکان کو بھی رہے گا۔گاڑی کے مالکان اور مال روانہ کرنے والوں کو پتہ چلے گا کہ ان کی گاڑی مطلوبہ وقت پر کہاں ہے؟۔ جی پی ایس آلات کی حالانکہ بازار میں قیمت بہت زیادہ ہے، بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے ایک نجی کمپنی سے بات چیت میں مصروف ہے، تاکہ کم قیمت پر جی پی ایس آلات تجارتی گاڑیوں کو مہیا کرایا جاسکے۔ دوسری طرف ٹرک مالکان کو اپنی گاڑیوں میں جی پی ایس آلہ نصب کئے جانے پر سخت اعتراض ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جی پی ایس آلہ اگر نصب کردیا گیاتو گاڑیوں کی رفتار پر نظر رکھ کر ان پر غیر ضروری مقدمے دائر کئے جاسکتے ہیں، ساتھ ہی ایک مقام سے دوسرے مقام تک تیز رفتاری سے مال کی فراہمی میں دشواری بھی پیش آسکتی ہے۔ یاد رہے کہ اسی بات کو لے کر کچھ عرصہ قبل ٹرک مالکان نے ملک گیر ہڑتال بھی کی تھی، لیکن اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے سبب سبھی گاڑیوں کیلئے جی پی ایس آلے کی تنصیب لازمی ہوجائے گی۔