منگلورو 15 / جون (ایس او نیوز) منگلورو یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری پانے والے ڈاکٹر تُمبے محی الدین صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج خلیجی ممالک میں تجارتی اور تعلیمی میدان ایک بڑی شخصیت کے طور پر پہنچانے جا رہے تمبے محی الدین صاحب نے 21 سال کی عمر میں ہی تجارتی دنیا میں قدم رکھا تھا ۔
منگلورو کے تمبے سے تعلق رکھنے اور 23 مارچ 1953 کو پیدا ہونے والے محی الدین صاحب نے اپنے والد مرحوم ڈاکٹر بی حاجی کے قائم کردہ ایک بڑے کاروبار کو وسیع پیمانے پر ترقی دینے میں کامیابی حاصل کی ۔ اپنے والد کے علاوہ دادا اینیپویا محی الدین کنہی سے سیکھے ہوئے تجارت اور کاروباری گُر اور سبق اس راہ میں ان کے لئے بڑے مددگار ثابت ہوئے ۔
ڈاکٹر محی الدین تُمبے نے 1998 میں یو اے ای میں 'تُمبے گروپ' قائم کیا ۔ ان کی قیادت میں تجارت، تعلیم، طب و صحت، ریسرچ، ریٹیل فارمیسی، ہاسپیٹالٹی، ریئل ایسٹیٹ، ایوینٹ منیجمنٹ، میڈیا، ڈایاگونوسٹکس، پبلی کیشن جیسے 20 سے زائد شعبہ ہائے زندگی میں اس گروپ کو بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔ اس کے ذریعے پندرہ ہزار سے زائد افراد کو روزگار مہیا ہو رہا ہے ۔
ڈاکٹر تمبے محی الدین نے عجمان میں جو میڈیکل کالج قائم کیا تھا، آج اس نے گلف میڈیکل یونیورسٹی کی شکل میں تمام خلیجی ممالک بہت ہی نامور میڈیکل یونیورسٹی کے طور پر شناخت بنائی ہے ۔
ڈاکٹر محی الدین عجمان انڈین ایسو سی ایشن، انڈین بزنس کاونسل عجمان، بیاریس ایسو سی ایشن دبئ اور کرناٹکا سنگھا شارجہ کے سرپرست اعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں ۔ اس کے علاوہ ایشیئن ہاسپٹل فیڈریشن یو اے ای ژون کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ وہ فرانس کے فرنی اولٹیئر میں قائم انٹرنیشنل ہاسپٹل فیڈریشن کے رکن اور ایسو سی ایشن آف انٹرنیشنل یونیورسٹی پرسیڈنٹس کے رکن بھی ہیں ۔
ان کا ادارہ تمبے فاونڈیشن ہمیشہ صحت اور تعلیمی سرگرمیوں کے پشت پناہی کر رہا ہے ۔ تعلیم اور تربیت کے میدان میں طلبہ کو تعلیمی وظائف ، فیلو شپ اور مالی تعاون کے علاوہ ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے میں یہ ادارہ ہمیشہ آگے رہتا ہے ۔
منگلورو سینٹ ایلوشیئس کالج کے سابق طالب علم ڈاکٹر تمبے محی الدین کو فوربس میگزین نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے عرب دنیا میں ہندوستان کی بڑی بااثر کاروباری شخصیت میں شامل کیا تھا ۔ اس سے قبل ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دبئی کی امیٹی یونیورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا تھا ۔ اس کے علاوہ انہیں 'گلف کرناٹکا رتن' کے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا جا چکا ہے ۔