بیدر 31؍جنوری (ایس او نیوز) کالج کی ایک طالبہ پوجا ہاڈپد کے قتل کے خلاف ہندو ہتھا رکھشنا ویدیکے نے پیر کو جس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا تھا وہ پرتشدد ہو گیا اور حالات پر قابو پانے کے لئے پولس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے حامیوں نے اس احتجاجی مظاہرے کے دوران پولس پر پتھرائو کیا جس کے بعد پولس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ مظاہرین کی سنگ باری میں زخمی ہونے والوں میں ایس پی دیوراج بھی شامل ہیں ان کے علاوہ دیگر 20سے زیادہ افراد کو گہرے زخم آئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ہندو ہتھا رکھشنا کے رضاکار پہلے امبیڈکر سرکل پر جمع ہوکر نعرے بازی کرنے لگے ۔پھر میمورنڈم دینے کے لئے ڈی سی کے دفتر کی طرف بڑھے۔مگر وہاں سے پھر شیواجی سرکل پر پہنچ گئے اور ہنگامہ خیزی پر اترآئے۔جب پولیس نے مداخلت کی تو پتھر، چپل ، ناریل ، ہیلمیٹ وغیرہ جو بھی ہاتھ لگا اسے پولیس کی طرف پھینکنا شروع کیا۔ جب پتھراؤ سے ایس پی کو چوٹ آئی تو پولیس نے جم کرلاٹھی چارج کیا ۔ پولیس جب مظاہرین کا پیچھا کررہی تھی تو اس وقت ہجوم کے بھگڈر کی وجہ سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے اورٹاؤن پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کی جیپ کا شیشہ بھی توڑنے کی خبرملی ہے۔
خیال رہے کہ 27 جنوری کو بیدر کے کوسم دیہات کی ایک 19 سالہ طالبہ کی موت واقع ہوئی تھی، جس کے تعلق سے 22 سالہ شمس الدین پر الزام ہے کہ اُس نے طالبہ کی عصمت ریزی کے بعد اُس کا قتل کیا ہے۔ اسی واقعے کی مخالفت میں بی جے پی حامی تنظیموں نے پیر کو احتجاجی ریلی نکالی اور طالبہ کے ریپ اینڈ مرڈر پر انصاف کا مطالبہ کیا۔ اس تعلق سے پولس کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے کے لئے پولس کی اجازت نہیں لی گئی تھی ۔ جیسے ہی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ احتجاج کے لئے جمع ہوئے، پولس موقع پر پہنچ گئی اور ریلی نکالنے سے روکنے کی کوشش کی، جس پر احتجاجیوں نے پولس پر حملہ کرنا شروع کردیا اور تشدد پر اُترآئے، جس کے بعد پولس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کرلیا۔ واضح رہے کہ ملزم شمس الدین کو پولس نے پہلے ہی گرفتار کرلیا ہے اور چھان بین جاری ہے۔