بنگلورو۔21؍ستمبر(ایس اونیوز) کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں جہاں پوری ریاست سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کررہی ہے۔ اور وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے تملناڈو کو پانی فراہم نہ کرنے کا فیصلہ لینے پر ان کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیاجارہاہے تو ایسے میں بی جے پی نے اپنی سیاسی موقع پرستی کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے آج شام وزیر اعلیٰ کی طرف سے طلب کردہ کل جماعتی میٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیاہے۔ آج شام ودھان سودھا میں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے بی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کرنے کے ساتھ تمام اراکین پارلیمان اور کاویری طاس کے منتخب نمائندوں کو بھی مدعو کیا ۔ بی جے پی نے اس میٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پچھلی میٹنگ میں ہی بی جے پی نے کہاتھاکہ تملناڈو کو پانی فراہم نہ کیا جائے اس کے باوجود بھی پانی فراہم کیاگیا۔ بی جے پی نے اسی وقت کہاتھاکہ جو بھی قانونی مشکل آئے اس کی پرواہ کئے بغیر بی جے پی ان کے ساتھ رہے گی، لیکن ریاستی عوام کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تملناڈو کو پانی فراہم کردیا۔اب جبکہ صورتحال سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے پیدا شدہ صورتحال کے سبب وہ دوبارہ کل جماعتی میٹنگ اپنے فائدہ کیلئے طلب کررہے ہیں ۔ بی جے پی اس میٹنگ کا بائیکاٹ کرے گی۔ بی جے پی لیڈران نے بتایاکہ ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا دورۂ کلور پر ہیں ، مرکزی وزیر سدانند گوڈا اور اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر دہلی میں ہیں ، اراکین پارلیمان بھی اپنے اپنے حلقوں میں براجمان ہیں ، اسی لئے بی جے پی اس میٹنگ میں حصہ نہیں لے پائے گی۔ البتہ وزیراعلیٰ سدرامیا اگر یہ فیصلہ لیتے ہیں کہ تملناڈو کو پانی فراہم نہیں کیاجائے گا تو بی جے پی ان کے ساتھ رہے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے پانی کی مقدار کے متعلق حقائق پر پردہ پوشی کرکے عدالت کو گمراہ کن تفصیلات فراہم کیں ، جس کی وجہ سے کرناٹک کو پسپائی ہوئی ہے۔