بنگلورو،یکم فروری(ایس اونیوز) ریاستی بی جے پی میں اٹھنے والا انتشار تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کی مداخلت کے بعد ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا اور کونسل کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کے درمیان ہوئی مصالحت دو دن بھی ٹک نہیں پائی۔ایشورپانے آج ایک بار پھر یڈیورپا پر رکیک حملہ کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کی فہرست میں تبدیلی لانے اعلیٰ کمان کی ہدایت پر عمل کرنے سے یڈیورپا نے صاف انکار کردیا ہے۔ ایشورپا نے امیت شا کے روبرو یہ شرط رکھی تھی کہ دس ضلعی بی جے پی صدور کو فوراً تبدیل کیا جائے۔ایشورپا کے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے امیت شا نے یڈیورپا کو ہدایت دی تھی کہ فوراً ان صدور کو بدل دیا جائے۔ ایشورپا نے شکایت کی تھی کہ پارٹی کے وفادار کارکنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یڈیورپا نے ان عہدوں پر صدور کے تقرر میں اقرباء پروری سے کام لیا ہے۔ دیگرپارٹیوں سے آنے والوں کو یہ عہدے دے دئے گئے ہیں۔ فوری طور پر ان فہرستوں میں تبدیلی کرکے پارٹی کے وفاداروں کو موقع فراہم کیا جائے۔ایشورپا کے اس مطالبے کو یڈیورپانے امیت شا کی موجودگی میں منظور کرلیا۔ امیت شا نے یڈیورپا کو ہدایت دی تھی کہ نئے عہدیداروں کے تقرر کے سلسلے میں 10 فروری تک انہیں رپورٹ دی جائے۔لیکن اعلیٰ کمان کی ہدایت کو یڈیورپا نے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ کسی بھی پارٹی عہدیدار کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ 10 فروری تک اگر یڈیورپا نے عہدیداروں کونہیں ہٹایا تو یہ قوی امکان ہے کہ دوبارہ بی جے پی میں انتشار کی ایک نئی لہر چل پڑے گی۔ ایشورپا نے شرط رکھی تھی کہ شیموگہ ضلع بی جے پی کے صدر کو بدلا جائے، لیکن یڈیورپا نے اس مطالبے کو ماننے سے صاف انکار کردیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ہفتہ کے روز یڈیورپا دہلی سے بنگلور لوٹنے کے بعد پارٹی عہدیداروں کے تقرر کے سلسلے میں ایشورپا کے مطالبے پر اپنا فیصلہ سنادیں گے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ یڈیورپا کی طرف سے جو بھی موقوف ظاہر کیا جائے گا اسے دیکھنے کے بعد بی جے پی میں انتشار کی ایک تازہ لہر چل پڑے گی۔