بنگلورو،31 جنوری(ایس او نیوز)تقریباً ایک سال قبل بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) نے شہری پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے بجٹ میں فلاحی اسکیموں کا اعلان کیا تھا لیکن ایک سال گزر جانے کے بعد ان میں سے ایک کا بھی نفاذ عمل میں نہیں آیا ہے۔پیر کے دن اس مسئلہ کو بی بی ایم پی کونسل کے ماہانہ مشاورتی اجلاس میں اٹھایا گیا تھا اور سیاسی وابستگیوں سے بالا تر تمام ارکین نے بلدیہ کی طرف سے ان پروگراموں کے نفاذ کے سلسلہ میں کی جارہی کوتاہیوں پر ناراضگی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ بی بی ایم پی کے بجٹ برائے سال 2017-18 میں سماجی بہبود کی اسکیموں کے لئے772کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے، لیکن ان میں سے کسی ایک اسکیم کو بھی نافذ نہیں کیا گیا ہے ۔ چاہے وہ لیپ ٹاپ کی تقسیم ہو یا خواتین کے لئے سلائی مشینوں کی فراہمی، طلباء کے لئے بائی سیکل ہوں یا درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لوگوں کے لئے آئرن باکس کی فراہمی کا معاملہ ، ان میں سے کسی کو بھی نہ تو نافذ کیا گیا ہے اور نہ ہی اب تک ان کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں۔شہر کے مئیر سمپت راج نے اس ضمن میں فوری اقدامات کرنے ، افسران کو ہدایات دی ہیں۔