بنگلورو۔28؍فروری(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم مہادیو نے آج 9236.87 کروڑ روپیوں کا رواں سال کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں مرکزی حکومت سے 306کروڑاور ریاستی حکومت سے 3343کروڑ روپیوں کے گرانٹ، اثاثہ ٹیکس کے ذریعہ3317کروڑ روپیوں کی آمدنی ، اشتہاری ٹیکس کے ذریعہ 75کروڑ اور ڈیولپمنٹ چارج کے طور پر 300کروڑ سمیت 9ہزار کروڑ روپیوں سے زائد کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں شہر میں 150 کلو میٹر طویل داخلی سڑکوں کی وائٹ ٹاپنگ کیلئے فنڈز مختص کرنے کے ساتھ 40تالابوں کی صفائی اور 100کلومیٹر کی اہم سڑکوں کو ترقی ،25 اہم سڑکوں کو ٹنڈر شور کے طور پر ترقی ، نجی اشتراک سے ہمہ منزلہ پارکنگ کامپلکسوں کی تعمیر کا اعلان کیاگیا۔ طبی امداد حاصل کرنے والے افراد کی نگرانی اور اس فنڈ کے غلط استعمال پر روک لگانے پہلی بار بی بی ایم پی نے مریض کے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا ہے۔ہر کارپوریٹر چار تا چھ لاکھ روپیوں کا طبی فنڈ سالانہ استعمال کرسکتا ہے، خاکروبوں کیلئے مفت اندرا کینٹین کھانا اور مکانات کیلئے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ درج فہرست طبقات اور اقلیتوں کو ذاتی مکانات کی تجدید کیلئے خط افلاس کی شرط پر دی جانے والی امداد چار لاکھ روپیوں سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کی گئی ہے۔ خاتون کارپوریٹرس جن وارڈوں کی نمائندگی کرتی ہیں وہاں دس لاکھ روپیوں کی لاگت سے اندرا کینٹین میں جن اوشدی کیندرا قائم کیا جائے گا۔ بی بی ایم پی کی طرف سے پنشن حاصل کرنے والوں کیلئے بھی آدھار لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بزرگ شہریوں کی فلاح کیلئے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بے گھر افراد کو رات میں قیام کی سہولت فراہم کرنے کیلئے 2.5کروڑ روپیوں کی لاگت پر سرائے تعمیر کئے جائیں گے۔ پہلی بار بی بی ایم پی نے وارڈ سطح پر کیمپے گوڈا اور امبیڈکر جینتی تقریبات کے اہتمام کو منظوری دی ہے۔ بی بی ایم پی پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے نجی اشتراک سے شہر کی مختلف سڑکوں پر اسکائی واکس کی تعمیر کا اعلان کیاگیا ہے۔ کے آر مارکیٹ علاقہ کی تقریباً 75کروڑ روپیوں کی لاگت پر ترقی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ شیواجی نگر کے بورنگ اینڈ لیڈی کرزن اسپتال میں بلدی سہولیات کی ترقی کیلئے ڈھائی کروڑ روپے مہیا کرائے گئے ہیں۔ پہلی بار وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء کو حاصل سرکاری مکان کے طرز پر میئر اور بی بی ایم پی کمشنر کیلئے بھی بنگلہ مہیا کرانے کیلئے بجٹ میں پانچ کروڑ روپیوں کی رقم مختص کی گئی ہے۔ بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ بی بی ایم پی کی جو دو املاک فی الوقت رہن رکھی گئی ہیں ان کو فوری طور پر بی بی ایم پی کے قبضے میں واپس لینے کیلئے فنڈز مہیا کرائے جائیں گے۔