ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / عوامی خدمت میں غفلت برداشت نہیں، افسران جواب دہی اور شفافیت کے ساتھ کام کریں: ڈی۔ کے۔ شیوکمار

عوامی خدمت میں غفلت برداشت نہیں، افسران جواب دہی اور شفافیت کے ساتھ کام کریں: ڈی۔ کے۔ شیوکمار

Thu, 09 Jul 2026 18:14:26    S O News

بیلگاوی ، 9/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا ہے کہ عوام حکومت اور سرکاری افسران کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، اس لیے ہر افسر کو اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری، شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ نبھانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی خدمت ہی انتظامیہ کا اصل مذہب ہے اور فرائض کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

بیلگاوی میں سورنا سودھا میں منعقدہ بیلگاوی ڈویژن کی ترقیاتی جائزہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ منتخب نمائندے ہر پانچ سال بعد عوام سے ووٹ مانگنے جاتے ہیں، لیکن سرکاری افسران کو روزانہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی افسر اپنی ذمہ داری سے غفلت برتتا ہے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوں نے افسران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے دوران اگر کوئی افسر موبائل فون پر بات کرتے ہوئے پایا گیا تو اجلاس ختم ہونے سے پہلے اس کی معطلی کا حکم جاری کر دیا جائے گا۔ نظم و ضبط انتظامیہ کی بنیاد ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ضلع اور تعلقہ سطح کے تمام افسران اپنی تعیناتی کے مقامات پر ہی قیام کریں تاکہ عوام کو ان تک آسانی سے رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ معمولی کاموں کے لیے عوام کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے اور زیادہ سے زیادہ مسائل مقامی سطح پر ہی حل کیے جائیں۔

انہوں نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت افسران کی روزانہ کی سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ رکھیں، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا افسر کس علاقے میں گیا، کن مسائل کا جائزہ لیا اور کتنے معاملات حل کیے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے حکومت نے پرجا سیوا محکمہ قائم کیا ہے، جسے مؤثر انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی، وزراء اور افسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے عوام کے درمیان جائیں اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن مسئلے کا فوری ازالہ کریں۔

شہری ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ غیر منصوبہ بند بستیوں اور شہروں کی توسیع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام شہری ادارے منصوبہ بندی کے مطابق ترقی کریں گے اور بغیر منظوری کسی نئی آبادی یا لے آؤٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ محصولات میں ای۔ کھاتہ منصوبے کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو بغیر کسی اضافی خرچ کے ان کی جائیداد کے ای۔ کھاتہ دستاویزات گھر کی دہلیز تک فراہم کیے جا رہے ہیں اور اس سہولت کو بنگلورو کے بعد پورے ریاست میں وسعت دی جا رہی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں انہوں نے اعلان کیا کہ سی۔ ایس۔ آر اسکول قائم کیے جائیں گے، تاکہ دیہی علاقوں کے طلبہ کو بھی معیاری تعلیم ان کے اپنے علاقوں میں میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسمبلی حلقے میں آئندہ برسوں کے دوران دس سے بیس معیاری اسکول قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس۔ آئی۔ آر) کے بارے میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ ہر اہل شہری کا حقِ رائے دہی محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ بوتھ سطح کے افسران ہر گھر کا کم از کم تین مرتبہ دورہ کریں اور ضروری دستاویزات کی فراہمی میں عوام کی مکمل مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر وارڈ اور علاقے میں امدادی مراکز قائم کر رہی ہے تاکہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہ ہو اور ہر شہری اپنے جمہوری حق سے محروم نہ رہے۔

نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے وزیرِ اعلیٰ نے "یووا اُدیوگ سیتو" پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے نجی شعبے میں دستیاب ملازمتوں کی معلومات نوجوانوں اور طلبہ تک پہنچائی جائیں گی۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ریاست بھر میں سماجی ہم آہنگی، آئینی اقدار اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے دس ہزار "بھارت جوڑو یوا سنگھ" قائم کیے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک کو 10 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے ریاست کی تمام سرکاری اراضی کا جامع آڈٹ کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بے زمین غریب خاندانوں کو رہائشی پلاٹ فراہم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ جلد نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے تمام اضلاع سے سرکاری اراضی کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقی، شفافیت اور نظم و ضبط ہی موجودہ حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں

 


Share: