ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے استعفیٰ دے کر مسلمانوں کو مارا طمانچہ؛ بی جے پی کی بانچھیں کھلیں؛ مودی نے دی مبارکباد

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے استعفیٰ دے کر مسلمانوں کو مارا طمانچہ؛ بی جے پی کی بانچھیں کھلیں؛ مودی نے دی مبارکباد

Wed, 26 Jul 2017 21:33:56    S.O. News Service

پٹنہ: 26/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہارکی سیاست میں زبردست بھونچال آئی ہے۔بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے اپنے نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادوکے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے معاملے پراتحادکی ساتھی ٹیم آر جے ڈی کے ساتھ اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے آج استعفیٰ دے دیا۔کمارنے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو استعفیٰ سونپنے کے بعد راج بھون کے باہر نامہ نگاروں سے کہاکہ بہارمیں جو حالات رہتے، اس میں مہاگٹھ بندھن حکومت چلانامشکل ہوگیاہے۔انہوں نے نئی حکومت بنانے کے لیے بی جے پی سے حمایت لینے کے امکان کومستردنہیں کیا۔اسی کے ساتھ انہوں نے راہل گاندھی کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہاکہ میں نے اسے حل کرنے کی کوشش کی۔میں نے کسی سے استعفیٰ کے لیے نہیں کہا۔میں نے صرف تیجسوی یادوسے بدعنوانی کے الزامات پر وضاحت دینے کے لیے کہاتھا۔اب یہ توجلدمعلوم ہوجائے گاکہ جس نتیش کمارپرمسلمانوں نے اعتبارکیاتھااورجس سیکولرزم کی مسلمان مالاجپتے رہے ہیں،اس پرسرپیٹاجائے یاکچھ اور۔ادھرلالویادونے پریس کانفرنس کرکے نتیش کمارپرذاتی حملے کیے ہیں اورسوال اٹھایاہے کہ اگرتیجسوی یادوسے استعفیٰ مانگاجاتاجیساکہ وزیراعلیٰ نے خودکہاہے کہ ہم نے استعفیٰ نہیں مانگاہے،تونتیش کمارپربھی سوال اٹھتے کیونکہ ان پرایسے کیسزہیں جن میں عمرقیدیاپھانسی کی سزاہوسکتی تھی۔یہ کیس کھل چکاتھااورنتیش ڈرگئے تھے۔لالویادونے ایف آئی آرکی کاپی بھی دکھائی اورخودنتیش کمارکاانتخابی حلف نامہ بھی دکھایاجس میں انہوں نے اس کیس کااعتراف کیاتھا۔یہ سب پہلے سے طے تھا،اگرایسانہیں ہے جیساکہ نتیش کمارکہتے رہے ہیں کہ مٹی میں مل جائیں گے لیکن بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے تومیری تجویزیہ ہے کہ راجد،جدیواورکانگریس کے ایم ایل اے اپنانیالیڈرچنیں اورنتیش اورتیجسوی کے بغیرمہاگٹھ بندھن کی سرکارہو۔ایسے میں ایک سوال یہ ہے کہ کیانتیش کمارکے لیے بی جے پی کے ساتھ اب وزیراعلیٰ بنناآسان ہوگا،کیونکہ راجداب انہیں بھی ملزم مان رہی ہے جیساکہ بی جے پی تیجسوی کوملزم بتارہی ہے۔دوسرے یہ کہ بہارکے مسلمانوں نے جس قدرنتیش کمارپراعتمادکیاتھا،اس پروہ ٹھیس پہونچاتے ہیں یانہیں۔ایسے میں جدیوکے مسلم اوریادوایم ایل اے پرنگاہیں ٹکی رہیں گی کہ وہ ضمیرکی آوازپرکیافیصلہ کرتے ہیں۔اس درمیان جدیوکے سنیئرلیڈرکے سی تیاگی لالویادوکے سنگین الزامات پرزبردست ناراض ہوئے اورانہوں نے اب راجدکے ساتھ کسی بھی اتحادکے امکان سے انکارکیااورانہوں نے بیس مہینوں کے اتحادکواپنی بڑی غلطی بتایا۔کانگریس نے اب بھی مہاگٹھ بندھن کی امیدوں کونہیں چھوڑاہے۔کانگریس کے ترجمان سرندیپ سرجیوالاکاکہناہے کہ نتیش کمارفرقہ پرستی کے خلاف ہیں،اس لیے ان سے امیدکی جاتی ہے کہ وہ اب بھی بی جے پی کے خلاف رہیں گے۔لہٰذاتازہ واقعات سے بہارکی سیاست میں غیریقینی کی صورتحال کاماحول پیداہوگیاہے کیونکہ 243رکنی اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔نتیش کمارکی جنتا دل یوکے پاس 71سیٹیں ہیں جبکہ تیجسوی یادوکے والدلالوپرسادکی قیادت میں آرجے ڈی کے پاس80سیٹیں ہیں۔بی جے پی کے پاس 53سیٹیں ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اب وہ بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنائیں گے، اس پر انہوں نے کہاکہ جوہوناتھاہوگیا۔اب دیکھتے ہیں آگے کیاہوتاہے۔بہار میں مہاگٹھ بندھن نے اسمبلی انتخابات میں تیجسوی یادونے جیت درج کی تھی جس میں کانگریس بھی شامل تھی۔جیت کے بعدنتیش کمارنے 20نومبر 2015کو وزیراعلیٰ کے عہدے کاحلف لیاتھا۔
 


Share: