پٹنہ،26؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار میں 2017 میں تبدیلی ہوتے سیاسی مفادات کی وجہ سے کافی ڈرامائی رہا ۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے جے ڈی یو، لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی اور کانگریس کے اتحاد سے مہا گٹھ بندھن کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی قیادت این ڈی اے کا دامن تھام لیا تھا ۔ اس سال قدرتی آفت نے بھی بہار میں بھاری تباہی مچائی تھی، شمالی بہار کے 19 اضلاع میں سیلاب کی وجہ سے تقریبا دس لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے اور 500 سے زائد افراد کی جان چلی گئی تھی ۔ نئی حکومت کی تشکیل کے تھوڑی دیر بعد سرجن گھوٹالہ سامنے آیا جو خزانے سے ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے سینکڑوں کروڑ روپے دھوکہ سے منتقل کرنے سے منسلک تھا۔ اس صورت میں ریاستی حکومت نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا ۔ ریاست میں شراب بندی کے زمینی سطح پر نافذ ہونے کی وجہ سے زہریلی شراب کی وجہ سے ہونے والی موت کے واقعات نے سوالیہ نشان قائم کیے ۔ زہریلی شراب کی وجہ سے موت کے رجحان روہتاس اور ویشالی اضلاع میں ہوئی۔ سمستی پور میں شراب اسمگلروں نے ایک پولیس اہلکار کو قتل کر دیا۔ اس کے علاوہ ریاست بھر سے بڑے پیمانے پر شراب کی برآمدگی ہوئی اور اس سلسلے میں کئی ملزمین ابھی بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے کی مخالفت میں انہوں نے چار سال پہلے ہی بی جے پی کے 17 سال کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور لالو پرساد یادو کی معیت میں مہا گٹھ بندھن کے سایہ میں پناہ لی تھی ۔نریندر مودی اور نتیش کمار کے درمیان تلخ تعلقات میں گرمجوشی کا اشارہ جنوری میں پرکاش پروکے موقع پر ملا۔ گرو گووند سنگھ کی 350 ویں جینتی پر منعقد پروگرام میں مودی اور کمار نے ایک ساتھ منچ کا اشتراک کیا تھا او ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھے۔ نوٹ بندی کے مودی کے فیصلے کی حمایت میں کھل کر سامنے آکر نتیش کمار نے اپنے اتحاد کے ممبران کی خفگی مول لی تھی۔مہا گٹھ بندھن میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اس کے واضح اشارہ تب ملے جب نتیش کمار نے صدارتی انتخابات میں رام ناتھ کووند کو حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ان واقعات تیزی سے تبدیلی اس وقت ہوئی جب سی بی آئی نے ہوٹل گھوٹالے میں لالو پرساد، ان کے چھوٹے بیٹے اور اس وقت کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو سمیت ان کے اہل خانہ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، نتیش کمار نے کہا کہ یادو اس بارے میں عوامی طور پر وضاحت کریں ۔ ان کی اس مانگ کو آر جے ڈی نے ٹھکرا دیا اور اس کے بعد انہوں نے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ایک سیاسی طوفان کھڑا کر دیا تھا ۔ بی جے پی نے نئی حکومت کو حمایت دینے کا اعلان کیا اور استعفیٰ دینے کے 24 گھنٹے کے اندر نتیش کمار نے دوبارہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔