بھٹکل 19/جنوری (ایس او نیوز)گرام پنچایتوں کے صدور اور نائب صدورکی تنظیم کے صدر وینکٹیش نائک نے دھمکی دی ہے کہ اگر گرام پنچایتوں کے بعض ڈیولپمنٹ افیسرس اگر اپنی حد میں نہیں رہے اور اپنے عہدے کا غیر ضروری استعمال کرنے کا رویہ انہوں نے جاری رکھا تو پھر احتجاجی مظاہرہ کرنا لازمی ہوجائے گا۔
وینکٹیش نائک نے شیرالی گرام پنچایت میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منڈلی گرام پنچایت پی ڈی او مسٹر نٹراج انتہائی غیر ذمہ دارانہ سلوک اپنا رہے ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری گرام پنچایت افسران پر عائد ہوتی ہے۔مگر ان افسران کو اس بات کا غرور ہوتا ہے کہ وہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں اس لئے جو چاہے کر سکتے ہیں۔ایک حاملہ عورت جب اپنے مکان کے کاغذات کی تصدیق کے لئے مسٹر نٹراج سے رابطہ کرتی ہے تو اس کی درخواست کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ پنچایت صدر کی سفارش کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ یہ ایک قابل مذمت حرکت ہے۔یہ افیسر جب جالی پنچایت میں عہدے پر فائز تھا تو اس نے ایک بزرگ شہری کے ساتھ مارپیٹ بھی کی تھی۔جس کے بعد اسے ڈیپوٹیشن پر ماولی۔۲ گرام پنچایت میں بھیج دیا گیا تھا۔وہاں اس افیسر کے رویے سے تنگ آکر گرام پنچایت صدر نے استعفیٰ دیا تھا۔ اب پی ڈی او نٹراج نے وہی رویہ منڈلی گرام پنچایت میں بھی اپنا رکھا ہے۔
وینکٹیش نائک نے کہا کہ ہم افسران کو غیر قانونی کام کرنے کے لئے نہیں کہتے۔لیکن عوامی خدمات میں تساہل اور بدسلوکی برداشت نہیں کی جاسکتی۔مسٹر نٹراج کو معلوم ہونا چاہیے کہ پنچایت نظام میں پی ڈی او کا عہدہ گرام پنچایت صدر سے اونچا نہیں ہے۔صرف نٹراج ہی نہیں بلکہ اگر کسی بھی افسرنے اس طرح کا رویہ اپنایا تو پھر ہم لوگ ان کے خلاف ریاستی سطح تک احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔وینکٹیش نائک نے الزام لگایا کہ پی ڈی او کے عہدے پر فائز افسران کو قابو میں رکھنے کے لئے تعلقہ پنچایت سی ای او کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔صرف باتوں سے بہلانے کا کام کیا جارہا ہے، اس سے افسران کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ کچھ گرام پنچایتوں میں پی ڈی او ہی سپریم پاور ہوگئے ہیں۔
پریس کانفرنس میں پنچایت صدورکی تنظیم کے نائب صدر این ڈی موگیراور سکریٹری منجوناتھ کے علاوہ اراکین کی بڑ ی تعداد حاضر تھی۔