بھٹکل19/ستمبر (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے شیرالی میں پلّی ہکّل کے مقام پرایم ایس آئی ایل کی طرف سے شراب کی دکان کھولنے کے خلاف عوام نے کچھ مدت سے محاذ کھول رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اجول کمار گھوش کو بھی میمورنڈ م دیا گیا تھا اور وہ حالات کا جائزہ لینے اور عوامی رائے جننے کے لئے شیرالی آنے ہی والے تھے کہ اس دوران ان کا تبادلہ ہوگیا۔
اب ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے اس میمورنڈ م پر کارروائی کرتے ہوئے ہدایات جاری کی تھی کہ محکمہ آبکاری کے طرف سے مقامی حالات کا جائزہ لینے اور عوام سے تاثرات معلوم کرنے کے بعد انہیں رپورٹ پیش کی جائے۔ اس پس منظر میں آبکاری کے ڈپٹی کمشنرسوریہ کانت جندے نے شیرالی پلّی ہکل پہنچ کر جائزہ لیا۔اس موقع پر مقامی عوام نے انہیں بتایا کہ ہم یہاں سرکاری شراب کی دکان کھولنے کا موقع نہیں دیں گے، کیونکہ ایک طرف جنوب میں مندر ہے دوسری طرف اقلیتوں کے مکانا ت اور مسجد ہیں۔ تیسری طرف 50میٹر کے فاصلے پرموگیر سماج کا مندر ہے۔شمال میں بھی مندرموجود ہیں۔ ان تمام مندروں اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو جانے کا راستہ یہاں سے ہی گزرتا ہے جہاں شراب کی دکان کا منصوبہ ہے۔ ایسی حساس جگہ پر سرکاری شراب کی دکان کھولنے سے ہزاروں ہندو ؤں اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے کاروار سے تشریف لانے والے آبکاری ڈی سی مسٹر سوریہ کانت جندے نے کہا کہ ضلع ڈی سی کی ہدایت پر حالات کا جائزہ لینے کے لئے یہاں آنا ہوا ہے۔ عوامی رائے کے بعد ریوینیو ڈپارٹمنٹ کی رائے لی جائے گی اور پھر اس کے بعد دکان کھولنے کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔ مگربنیا دی طور پر اہمیت مقامی لوگوں کی طرف سے منظوری کو ہی رہے گی۔اس سلسلے میں کئی اداروں کی طرف سے منظور ی لی جانی ہوتی ہے۔ چند دنوں بعد ڈی سی خود یہاں پہنچ کر جائزہ لینے کے امکانات بھی موجودہیں۔
لیکن عوام نے بالکل واضح جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں شراب کی دکان کسی حالت میں کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر اس کے بعد بھی سرکاری طور پر دکان کھولنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر سخت احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔