ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل غوثیہ اسٹریٹ پمپنگ اسٹیشن کو ایک ماہ کے اندر درست کرنے کا ہوراٹا سمیتی نے میونسپل چیف آفسر کو دیا انتباہ

بھٹکل غوثیہ اسٹریٹ پمپنگ اسٹیشن کو ایک ماہ کے اندر درست کرنے کا ہوراٹا سمیتی نے میونسپل چیف آفسر کو دیا انتباہ

Thu, 29 Aug 2024 10:31:46    S.O. News Service

بھٹکل 29/اگست (ایس او نیوز) بھٹکل  غوثیہ اسٹریٹ میں یو جی ڈی پمپنگ اسٹیشن مکمل طور پر فیل ہونے اور گٹر کا گندہ پانی قریبی سرابی ندی میں چھوڑے جانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سرابی ندی  ہوراٹا سمیتی کے  ایک وفدنے  بھٹکل میونسپل  چیف آفسر نیل کنٹھ میستا سے ملاقات کی  اور سرابی ندی میں یو جی ڈی کا گندہ پانی چھوڑے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ  اگر تیس دن کے اندر  پمپنگ اسٹیشن کو درست کرکے گندے پانی کو سرابی ندی میں چھوڑنا بند نہیں  کیا توسینکڑوں لوگوں کو ساتھ لے کر اسسٹنٹ کمشنر دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

انجم گنگاولی ندوی کی قیادت میں بدھ کو جب وفد  بھٹکل ٹاون میونسپل آفس  پہنچا تو چیف افسرنیل کنٹھ میستا  سمیت میونسپل اسسٹنٹ انجینئر اروند اور سابق انجنیئر وینکٹیش ناوڈا نے  وفد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ    بھٹکل کا  یو جی ڈی پلانٹ ناکام نہیں ہوا ہے، البتہ آبادی میں اضافے  کی وجہ سے  غوثیہ اسٹریٹ پمپنگ اسٹیشن  میں  ٹھوس فُضلہ (Solid Waste)  کو پمپنگ کرکے وینکٹاپور میں واقع  ایس ٹی پی میں  روانہ کرنے کے لئے      نصب کردہ موٹروں  کا پریشر کم ہوگیا ہے جس  کی وجہ سے  مسئلہ پیدا ہوا ہے، اس سلسلے میں   80 ایچ پی کے ایک  نئے موٹرکو نصب کرنے کے لئے  حال ہی میں  ٹینڈر منظور کیا گیا ہے جس کی تنصیب کے لئے دو ماہ  لگ سکتے ہیں۔ انجینئر اروند کے مطابق، اگر ایک ساتھ 80 /ایچ پی اور 50/ ایچ پی (دو موٹروں) کو چلائیں گے تو صد فیصد کامیابی نہ سہی، لیکن ایک حد تک حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

میونسپل چیف آفسر نیل کنٹھ میستا نے وفد کو بتایا کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ غوثیہ اسٹریٹ میں ایک منی ایس ٹی پی (منی سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ) قائم کیا جائے، لیکن علاقہ کے لوگ جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر ہوراٹا سمیتی وفد کی طرف سے بات کرتے ہوئے امتیاز اُدیاور نے سوال کیا کہ غوثیہ اسٹریٹ کے قریب ہی 8 ایکڑ سرکاری زمین موجود ہے، میونسپالٹی کی طرف سے منی ایس ٹی پی سرکاری زمین پر کیوں قائم نہیں کیا جارہا ہے؟ امتیاز اُدیاور نے زور دے کر کہا کہ اگر مسئلہ کا حل منی ایس ٹی پی ہے تو سرکاری زمین پر ہی منی ایس ٹی پی قائم کیا جائے اور اس مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ جواب میں جب چیف آفسر نے بتایا کہ اس کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سے منظوری لینی ہوگی تو وفد میں شامل بعض نوجوان چیف آفسر پر برس پڑے اور کہا کہ کس سے بات کرنی ہے اور کس سے منظوری لینی ہے، یہ آپ کا مسئلہ ہے؛ ہمیں ایک ماہ کے اندر مسئلہ کا حل چاہیے اور سرابی ندی میں گٹر کا گندہ پانی چھوڑنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

آخر میں وفد کی طرف سے چیف آفسر کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی اور متنبہ کیا گیا کہ عارضی طور پر ہی سہی، ستمبر کے آخر تک پمپنگ اسٹیشن میں 80 ایچ پی کا ایک نیا موٹر نصب کرنے کے ساتھ ساتھ پمپنگ اسٹیشن میں پائی جانے والی دیگر خامیوں کو دور کرکے گندے پانی کو سرابی ندی میں چھوڑنے کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو سینکڑوں لوگوں کے ساتھ منی ودھان سودھا کے باہر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور سخت احتجاج کیا جائے گا۔

 اس موقع پرنو منتخب  میونسپل نائب صدر الطاف کھروری، اسٹینڈنگ کمیٹی چیرمین  قیصر محتشم، کونسلر  محتشم منڈے عبدالعظیم سمیت اسسٹنٹ میونسپل انجینئر اروند اور بھٹکل کے سابق اینورنمینٹل انجینر ویکنٹیش ناوڈا موجود تھے۔ سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کی جانب سے مصطفیٰ عسکری، تیمور گوائی، نصیف خلیفہ، عبدالسمیع میڈیکل، اشفاق کے ایم،  ذوالفقار، عبدالماجد و دیگر کئی ذمہ داران بھی  موجود تھے۔


Share: