بھٹکل 4 / اکتوبر (ایس او نیوز) اسارکیری اور سونارکیری کے رہائشیوں کی طرف سے اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹی ایم سی چیف آفیسر کے نام دو میمورنڈم دئے گئے ۔
پہلے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ نگراوتھان اسکیم کے تحت سونارکیری سے مین روڈ کو جڑنے والی سڑک پر تارکول بچھانے کا کام منظور کیا گیا تھا ۔ لیکن دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ٹینڈر حاصل کرنے والے ٹھیکیدار نے اب تک کام شروع نہیں کیا ہے ۔ اس سڑک پر ہمیشہ عوام کی چہل پہل اور موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ سڑک کی بد حالی کی وجہ سے عوام کو بڑی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ اس لئے فوری طور ٹھیکیدار کو اس سڑک کا کام شروع کرنے کی ہدایت دی جائے ۔
مزید کہا گیا ہے کہ اسی اسکیم کے تحت ٹھیکیدار نے اس علاقے میں کانکریٹ کی دوسری سڑک تعمیر کرنے کا جو کام کیا ہے وہ انتہائی غیر معیاری ہے ۔ اس سلسلے میں ٹی ایم سی کو معلومات رہنے کے باوجود ٹھیکیدار کو کام آگے بڑھانے کی اجازت دینا سمجھ میں نہیں آتا ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹھیکیدار کے غیر معیاری کام کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کرتے ہوئے اس کا ٹینڈر منسوخ کروایا جائے اور نئے سرے سے ٹینڈر طلب کرکے کام کا آغاز کیا جائے ۔ اس کے علاوہ سونارکیری سے مین روڈ تک سڑک پر تارکول بچھانے اور ہمارے علاقے کے دیگر منظور شدہ تعمیراتی کام پورے کروانے کے سلسلے میں اقدامات کیے جائیں ۔
ٹی ایم سی چیف آفیسر کو پیش کیے گئے ایک اور میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ غیر معیاری اور غیر سائنٹفک انداز میں کیے گئے انڈر گراونڈ ڈرینیج سسٹم کی وجہ سے علاقے میں موجود پانی کے کنویں متاثر ہوئے ہیں اور اس میں گندہ پانی رسنے کی وجہ سے اب کنووں کا پانی پینے اور دوسرے استعمالات کے لائق نہیں رہا ہے ۔
میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سونارکیری اور اسارکیری علاقہ کے مکانات نشیبی علاقے میں رہنے کی وجہ سے سرکل سے بندر روڈ تک کے علاقے میں موجود بڑی بڑی رہائشی عمارتوں، دکانوں اور ہوٹلوں وغیرہ کا گندہ پانی بڑے پیمانے پر تیز بہاو کے ساتھ اس نشیبی علاقے میں اترتا ہے ۔ اس وجہ سے سونارکیری اور اسارکیری کے گندے پانی کی نالیاں بلاک ہو جاتی ہیں ۔ اس کے بعد یہ پانی نالیوں سے بہہ کر کنووں میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اوپری علاقے کے گندے پانی کے بہاو کو نشیبی علاقے کے بجائے کسی اور طرف موڑا جائے ۔ اس طرح سونارکیری اور اسارکیری علاقے میں بہنے والے گندے پانی کا دباو کم کرنے کے لئے کارروائی کی جائے ۔