ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھوپال فرضی انکاؤنٹر کی مخالفت میں ہزاروں مسلم خواتین کا برقع پہن کرمظاہرہ

بھوپال فرضی انکاؤنٹر کی مخالفت میں ہزاروں مسلم خواتین کا برقع پہن کرمظاہرہ

Fri, 04 Nov 2016 15:49:49    S.O. News Service

اجین،4/ نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے اجین ضلع میں دو ہزار سے زیادہ  مسلم خواتین اور لڑکیاں برقعہ پہن کر ضلع کے مہیدپور علاقے کی سڑکوں پر آج اتریں اور بھوپال میں تین دن پہلے ہوئے اس مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی مخالفت میں مظاہرہ کیا جس میں سیمی کے آٹھ کارکنان ہلاک ہو گئے تھے۔اس احتجاج میں ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریبا 30کلومیٹر دور مہیدپور قصبے میں کیا گیا اور اس دوران”ہمیں انصاف چاہئے“اور ”ہم فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقات چاہتے ہیں“ کے نعرے لگائے گئے۔

مظاہرین میں 31اکتوبر کو بھوپال میں پولیس کے انکاؤنٹر میں مارے گئے مہیدپور کے مقامی شخص عبدالماجد کی بیوی اور ماں بھی شامل تھیں۔تحصیل ہیڈ کوارٹر کی جانب مارچ کرتے وقت مظاہرین زور زور سے چلا چلا کر کہہ رہی تھیں کہ انہیں بھوپال سینٹرل  جیل میں بند سیمی کے دیگر اراکین کے مارے جانے کا بھی ڈر ہے۔انہوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر میں تحصیلدار سریتا لال سے ملاقات بھی کی۔ مظاہرین نے اس دوران سریتا کو ایک میمورنڈم بھی دیا جو مہیدپور کے مجسٹریٹ کے نام تھا۔اس میں تصادم اور مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے مظالم  پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے ماتم کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ یقینی بنانے کے لئے برقع پہنا ہے کہ پولیس ہمیں پہچان نہ سکے،ہماری کمیونٹی کے مرد لوگ احتجاج نہیں کر سکتے، کیونکہ ایسا کرنے سے پولیس اور این آئی اے انہیں اٹھا لیتی اور پریشان کرتی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ منوہر ورما نے بتایا کہ ضلع میں صورتحال پرامن ہے۔
 


Share: