ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھوپال جیل کے آٹھ قیدیوں کا انکاؤنٹر نہیں، حکومت نے اُن کا قتل کروایا ہے- رہائی منچ کا الزام

بھوپال جیل کے آٹھ قیدیوں کا انکاؤنٹر نہیں، حکومت نے اُن کا قتل کروایا ہے- رہائی منچ کا الزام

Tue, 01 Nov 2016 00:16:41    S.O. News Service

لکھنؤ /31 اکتوبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) . رہائی منچ نے بھوپال سینٹرل جیل سے دہشت گردی کے الزام میں قید آٹھ نوجوانوں کی فراری و تصادم کو فرضی قرار دیا ہے. رہائی منچ نے سوشل میڈیا کی ایک ویڈیو کلپ کو جاری کرتے ہوئے پولیس پر سوال اٹھائے ہیں کہ جس طرح لاشیں دکھائی دے رہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ انہیں مار کر پھینکا گیا ہے. رہائی منچ کے مطابق جس طرح ایک پولیس والا ایک شخص پر گولی چلا رہا ہے اور پیچھے سے گالیوں کے ساتھ ایک آواز آ رہی ہے یہ نہ مار و، یڈیو بن رہا ہے سے صاف ہو جاتا ہے کہ مارنے کے بعد پولیس میڈیا کے سامنے اپنے کو سچ ثابت کرنے کے لئے تصادم کا ڈرامہ تیارکر رہی ہے. وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے رہائی منچ نے سوال اٹھایا کہ کل ہونے والے مدھیہ پردیش میں یوم تاسیس کو لے کر اکثریتی عوام میں دہشت پھیلانے کے لئے کیا پولیس نے اس واقعہ کو انجام دیا؟ رہائی منچ نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ کیا اس انکاؤنٹر کے نام پر شیوراج سنگھ اپنے مجرمانہ کارروائیوں میں عوام کو شریک بنا کر اپنے اوپر اٹھنے والے ویاپم  جیسے بدعنوانیوں کے سوالات کو دبانا چاہتے  ہیں؟ . منچ نے اس مبینہ فرضی انکائونٹر پر سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے.

رہائی منچ صدر محمد شعیب نے کہا کہ جس طرح سے بھوپال سینٹرل جیل سے سیمی سے جڑے ہونے کے ملزم آٹھ نوجوانوں کی کل دیر رات فراری اور اس کے بعد جس طرح سے پولیس کی طرف سے تصادم کو انجام دیے جانے کی بات آ رہی ہے، اس سے اس واقعہ پر کئی ایک سوالات پولیس و حکومت پر اُٹھ رہے ہیں . آخر جب بھوپال آئی جی یوگیش چودھری اس بات کو کہہ رہے ہیں کہ فرار قیدیوں نے پولیس کے اوپر گولی باری کی تو آخر وہ ہتھیار کی تفصیلات فراہم کرنے سے بچ کیوں رہے ہیں . رہائی منچ صدر نے کہا کہ اس سے پہلے کھنڈوا جیل سے چادروں کے سہارے رسی بنا کر فرار ہونے کی کہانی کو ہی دوبارہ پولیس نے بھوپال میں دہرایا ہے. اگر جیل سے فرارہونے کی بات  میں کوئی حقیقت ہوتی تو پولیس خود ہی سبق لیتی. انہوں نے کہا کہ ٹھیک اسی طرح احمد آباد  کی جیل میں پلیٹ، چمچ، دانت برش جیسے اوزاروں سے 120 فٹ طویل سرنگ کا دعوی کیا گیا تھا. رہائی منچ صدر نے کہا کہ مسلسل سیمی اور انڈین مجاہدین کے نام پر جیلوں میں بند ان قیدیوں کا قتل کیا جا رہا ہے جن کی رہائی ہونے  والی ہوتی ہے. ٹھیک اسی طرح وارنگل میں پانچ نوجوانوں کو جیل لے جاتے وقت حراست میں قتل کر دیا گیا. کیونکہ ان پر مودی کو مارنے کی سازش کا الزام تھا جو اگر بری ہو جاتے تو انٹیلی جنس-سیکورٹی اور ان جیسوں کی دہشت گردی کی سیاست کا پردہ فاش ہو جاتا. ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی خفیہ ایجنسیاں اور ریاست کی پولیس مل کر ان واقعات کو انجام دے رہی ہیں .

رہائی منچ نے بھوپال سینٹرل جیل میں قید امجد، ذاکر حسین صادق، محمد سالم، مجیب شیخ، محبوب گڈو، محمد خالد احمد، عقیل اور ماجد کے جیل سے فرار ہونے اور پولیس کی طرف سے تصادم کے دعوے پر کچھ اور اہم سوال اٹھائے ہیں - انکے مطابق بھوپال سینٹرل جیل کو انٹرنیشنل معیار ISO-14001-2004 کا درجہ حاصل ہے. جس کی سیکوریٹی  کابھی ایک اہم معیار ہے. ایسے میں وہاں سے فرار ہونے کی پولس سکرپٹ ناقابل تصور ہے.

پولیس جن قیدیوں کو تصادم میں ہلاک کرنے کا دعوی کر رہی ہے اس میں سے تین قیدیوں کو وہ کھنڈوا کی جیل سے فرار ہونے والے قیدی بتا رہی ہے. اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت دہشت گردی کے ملزمان کی جھوٹی فراری اور پھر گرفتاری یا فرضی تصادم میں قتل کرنے کی آڑ میں دہشت کی سیاست کر رہی ہے.

یہاں پر اہم سوال ہے کہ جن آٹھ قیدیوں کے فرار کی بات ہو رہی ہے وہ جیل کے اے بلاک اور بی بلاک میں بند تھے. رہائی منچ کو حاصل معلومات کے مطابق مارے گئے ذاکر، امجد، گڈو، عقیل خلجی جہاں اے بلاک میں تھے تو وہیں خالد، مجیب شیخ، ماجد بی بلاک میں تھے. ان بلاکس کے درمیان کافی فاصلہ ہے. ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر کسی ایک بلاک میں قیدیوں نے ایک قیدی محافظ کا قتل کیا تو یہ کس طرح ممکن ہوا کہ دوسرے بلاک کے قیدی بھی فرار ہو گئے.

پولیس چادر کو رسی بنا کر سیڑھی کی طرح استعمال کرنے کا دعوی کر رہی ہے. جبکہ چادر کو رسی بنا کر زیادہ اونچائی تک پھینکا جانا ممکن ہی نہیں ہے اگر پھینکا جانا ممکن بھی مان لیا جائے تو اس کا امکان نہیں رہتا کہ پھینکی گئی چادر کہیں اٹک جائے اور اوپر چڑھنے کے لئے سیڑھی کا کام کرسکے.

جیل کے پہرے دار سپاہی کو چمچ سے چاقو بنا کر گلا کاٹنا بتایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان ختم ہو جاتا ہے کہ ان کے پاس ہتھ گولہ اور ہتھیار تھا جس کا استعمال تصادم میں کیا گیا. دوسرے ایک آدمی کو مار کر کوئی پولیس چوکی کی کسٹڈی سے نہیں بھاگ سکتا کیونکہ اس طرح کسی سینٹرل جیل سے بھاگنا ناقابل تصور ہے.

رہائی منچ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ جیل سے نکلنے کے بعد ان کو کس نے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار مہیا کرائے؟ جیل میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کے بارے میں اب تک کوئی بات کیوں سامنے نہیں آ ئی؟  پولیس کے دعوے کے مطابق جن آٹھوں قیدیوں کی تصادم میں مارنے کی بات کہی جا رہی ہے اس میں سے کچھ کے میڈیا میں آئے فوٹو گرافس جس میں ان کے ہاتھوں میں گھڑی، پیروں میں جوتے وغیرہ پہنے ہوئے دیکھے گئے ہیں،جس سے اس بات کا بھی امکان ہے کہ کہیں انہیں کسی دوسری جیل میں شفٹ کرنے کے نام پر تیار کروایا گیا ہو اور پھر لے جاکر پولیس نے فرضی تصادم کو انجام دے دیا ہو.

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے بیان میں یہ کہا ہے کہ اس معاملے میں عوام کا تعاون ملا، لوگوں سے معلومات ملی اور لوکیشن کا پتہ لگا لیکن وزیر اعلی جی کو یہ بتانا چاہئے کہ اتنی جلدی عام لوگوں نے جیل سے فرار ملزمان کی شناخت  کیسے کی؟ 

پولیس کے دعوے کے مطابق فرار آٹھوں ملزمان کے تصادم کے دوران قتل سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پولیس کی 'بہادرانا' کارروائی پر کسی نے سرینڈر کرنے کی کوشش نہیں کی . یا پھر انہیں اٹھاکر وہاں لے جا کر آٹھوں کو مار کر پولیس اس معاملے میں کوئی ثبوت نہیں چھوڑنا چاہتی تھی.

رہائی منچ کے جنرل سکریٹری راجیو یادو نے بتایا کہ مارے گئے ذاکر حسین کے والد بدرالحسین سے اس واقعہ کے تعلق سے  بات ہوئی تو وہ اس واقعہ سے سخت حیران تھے انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بیٹا عبداللہ عرف الطاف حسین بھی جیل میں بند ہے. اس کی حفاظت کو لے کر وہ بے حد فکر مند تھے. ہلاک نوجوانوں میں بہت کچھ کیسوں میں بری بھی ہو چکے ہیں . اہل خانہ کا سوال ہے کہ 33 فٹ اونچی دیوار کو کوئی کیسے پھلانگ کر بھاگ سکتا ہے. راجیو یادو نے کہا کہ فرضی تصادم میں مارے گئے لوگوں کے پاس سے پولیس جس طرح دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کی بات کہہ رہی ہے وہ واضح کرتا ہے کہ اس کا سہارا لے کر پولیس اور بے قصور لوگوں کو پھنسانے کی سکرپٹ تیار کر چکی ہے. اہل خانہ نے کئی بار جیل میں سیکورٹی کو لے کر سوال اٹھایا مگر اس پر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ رہائی منچ جنرل سکریٹری راجیو یادو نے کہا کہ بھوپال میں ہوئے واقعہ کے بعد ملک کے مختلف جیلوں میں قید دہشت گردی کے ملزمان کے لواحقین کافی ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں انصاف ملنے سے پہلے ہی ان کے بچوں کا بھی قتل نہ کر دیا جائے، جس طرح سے یروڈا جیل میں قتیل صدیقی اور لکھنؤ میں خالد مجاہد کا پولیس نے حراست میں قتل کر دیا تھا. ایسے میں رہائی منچ نے ملک کے مختلف جیلوں میں بند دہشت گردی کے ملزمان کی حفاظت کی گارنٹی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دہشت کی سیاست کا اصلی چہرہ سامنے آ سکے۔


 


Share: