پٹنہ 26/نومبر (ایس او نیوز) ملک بھر میں بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف مبینہ خفیہ منصوبے کے تحت معاشی سرجیکل اسٹرائک کے نام پر بی جے پی دیش پریم کے جو گیت گارہی ہے اور عوام کو خوداپنی گاڑھی کمائی کے پیسے خرچ کرنے سے روکتے ہوئے جس طرح کا بحران پید ا کیا جارہے اس پر ہر کوئی حیران اور پریشان ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی روز کوئی نہ کوئی ایسا خلاصہ سامنے آتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے لیڈروں کی نیت پر شبہ کرنا فطری ہوجاتا ہے۔
اب ایک تازہ اور سنسنی خیز خبر یہ سامنے آئی ہے کہ 1000اور500کے بڑے نوٹوں کو کالعدم اور غیر قانونی قرار دینے سے کچھ دن پہلے ہی خود بی جے پی نے بڑی بھاری رقم زمین خریدنے میں خرچ کی ہے۔ کیاچ نیوز ڈاٹ کام کی اس خبر کے مطابق زمین کی اس خرید پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔اس بات کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں بہار کے کچھ علاقوں میں کروڑوں روپے مالیت کی زمینیں خریدنے کا اقرار خود بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے کیا ہے۔ واضح رہے کہ 8نومبر کو رات کے وقت بڑی قیمت والے نوٹ بند کرنے کا اعلان وزیرا عظم نریندر مودی نے کیا تھا۔
بی جے پی کی بہار یونٹ کے ذریعے کیے گئے زمین کے ایسے 10سودوں کے بارے میں کیاچ نیوز ڈاٹ کام نے دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں۔اس میں سے کچھ جائیدادیں بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے نام پربھی خریدی گئی ہیں۔کہتے ہیں کہ بی جے پی کے ایم ایل اے سنجیو چوراسیہ اور دیگر اہم لیڈران نے اس طرح کے سودے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ نوٹ بندی سے ذرا پہلے اس طرح کی سودے بازی صرف ریاست بہار تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کی سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔
بی جے پی کے ایم ایل اے چوراسیہ کا کہنا ہے کہ ہم نے تو صرف دستاویزات پر دستخط کیے ہیں، جبکہ رقم پارٹی کی طرف سے موصول ہوئی ہے۔ یہ زمینیں پارٹی کے دفاتر تعمیر کرنے اور دیگر مقاصد کے لئے خریدی گئی ہیں۔اور یہ سودے نومبر کے پہلے ہفتے میں ہوئے ہیں۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان سودوں کے لئے رقم چیک سے ادا کی گئی ہے یا پھر نقد رقم دی گئی ہے تو انہوں نے تھوڑا سا گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ رقم کو مختلف طریقوں سے ادا کیا گیاتھا۔ دستیاب ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 250اسکوائر فٹ سے لے کر نصف ایکڑ تک کی زمینیں خریدی گئی ہیں۔ جس کی قیمتیں 8لاکھ روپیوں سے لے کر 1.16کروڑ تک ہے۔سب سے مہنگی زمین جو خریدی گئی ہے اس کی قیمت 1100روپے فی اسکوائر فٹ بتائی جاتی ہے۔حالانکہ یہ زمینیں کس کس کے نام پر ٹرانسفر کی گئی ہیں یہ بات ابھی پردہ راز میں ہے۔لیکن دستاویزات میں جو پتے درج کیے گئے ہیں اس میں بی جے پی کے لیڈروں کے ذاتی ایڈریس کے علاوہ دہلی میں واقع بی جے پی کا مرکزی دفتر11، اشوک روڈ بھی شامل ہے۔
بی جے پی کی اس سودے بازی پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔