بنگلورو 29؍جولائی (ایس او نیوز)حالیہ دنوں میں نَمّا میٹرو اسٹیشنوں پر ہندی میں لگے سائن بورڈز کو بگاڑنے کے واقعات میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ سدارامیا نے ہاوسنگ اینڈ اربن افیئرز کے مرکزی وزیر راجیندر سنگھ تومارکو مراسلہ بھیجا ہے اور اس میں مطالبہ کیا ہے کہ اب اس کے بعد نمّا میٹرو پر ہندی سائن بورڈزکوہٹاتے ہوئے ہندی زبان کا استعمال بندکیاجائے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے مراسلے میں راجندر سنگھ تومار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے میٹرو اسٹیشنوں پر ہندی کے سائن بورڈز کو بگاڑنے کی کوشش کی تھی، اس کے خلاف ریاستی حکومت نے کارروائی کی ہے اور امن و امان برقرار رکھا ہے۔ لیکن جب ادیبوں اور دانشوروں کی طرف سے اس بات کی مسلسل مخالفت ہورہی ہوتو پھر سہ لسانی فارمولے پر عمل کرنے کے بجائے عوام کو جس زبان سے اطمینان ہوتا ہے اس ریاستی زبان کو فوقیت دینا بہتر ہے ورنہ اس کے نقصان دہ نتائج نکل سکتے ہیں۔اس مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ:" ہندی کو لازمی طور پر لادنے کے بجائے اس سلسلے میں ترغیبی پالیسی کو اپنانا ضروری ہے۔ اس لئے جب یہاں کے مسافرین کنڑا اور انگریزی دو زبانوں سے مطمئن ہیں اور ان زبانوں میں پیغام سمجھ سکتے ہیں تو پھر ہندی زبان بھی استعمال کرنے ضروری نہیں ہوتا ہے۔لہٰذا ریاستی حکومت بنگلورو میٹروریل کارپوریشن لمیٹڈBMRCLسے یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہے کہ میٹرو اسٹیشنس کے سائن بورڈز کو از سرِنو ڈیزائن کیا جائے اور اس میں سے ہندی تحریر کو ہٹادیا جائے۔"
قارئین کو یاد دلائیں کہ سائن بورڈز پر ہندی کے استعمال پر تنازعہ کا آغاز نَمّا میٹرو کے پہلے مرحلے پر ہی ہواتھا۔ اس وقت اٹھنے والے اعتراضات کے پس منظرمیں کرناٹکا کے چیف سکریٹری نے مرکزی اربن ڈیولپمنٹ وزارت کے چیف سکریٹری کو مراسلہ بھیج کر مانگ کی تھی کہ یہاں صرف ذولسانی فارمولہ یعنی کنڑا اور انگریز ی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے جواب میں مرکزی وزارت مذکورہ کے چیف سکریٹری نے لکھاتھا کہ غیر ہندی داں علاقے میں مقامی زبان ، ہندی اور انگریزی پر مشتمل سہ لسانی فارمولہ استعمال کرنا لازمی ہے۔
لیکن کنڑا حامی اداروں کی طرف سے اس کی مخالفت چلتی رہی۔پھر امسال جون کے مہینے سے ہندی بورڈز ہٹانے کے لئے آن لائن مہم چل پڑی ہے۔جس کے ساتھ ہی کنڑا حامی رضاکاروں کو ہندی بورڈز پر کالے رنگ پوتنے کا حوصلہ ملا اور یہ سلسلہ اب تیز ہوتا جارہا ہے۔اس تعلق سے کنڑا رکھشنا ویدیکے نے احتجاجی مظاہرے بھی شروع کیے ہیں۔کنڑا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی KDAنے بھی وزیر اعلیٰ کو مراسلہ لکھ کر ان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی ہے کہ BMRCLکی طرف سے میٹرو ریلوے کے شعبے میں ملازمت کے لئے کنڑیگاس کو فوقیت نہیں دی جارہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام نچلے درجے کی ملازمتیں جیسے صفائی ستھرائی اور سیکوریٹی گارڈز وغیرہ کی تمام آسامیاں کنڑیگاس کے لئے مختص کی جائیں۔