بنگلورو:8؍اپریل (ایس او نیوز) بنگلوروشہر میں ہر دن ٹریفک کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے جس سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ سڑکوں پر لاکھوں گاڑیاں چلتی ہیں۔ فلائی اوور، انڈر پاس، سب وے تعمیر ہونے کے علاوہ سڑکوں کی توسیع اور تجدید کاری کے باوجود ٹریفک کا مسئلہ ہنوز جاری ہے۔ ان تمام مسائل کا حل ٹریفک پولیس اہلکارہی کو کرنا ہے۔ دوسری جانب سیاسی قائدین کے لئے گن مین اہم شخصیات آنے پر انہیں ٹریفک کو آسان بنانے کا کام بھی موجودہ ٹریفک اہلکاروں کو ہی نبھانا پڑرہا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی کرنے والے گاڑیوں کے مالکان پر بھی کڑی نظر رکھتے ہوئے ان پر جرمانہ بھی لگانا پڑرہا ہے۔شہر میں گاڑیوں کی تعداد 67.55لاکھ ہے۔ 353ٹریفک سگنل ہیں اور44ہزار کنکشن سڑکیں بھی ہیں۔ ان تمام پر نگرانی کیلئے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد صرف 3459ہے۔ بنگلور ٹریفک کیلئے جملہ5259پولیس اہلکاروں کو منظوری دی گئی تھی۔ ان میں 1800عہدے خالی ہیں۔ ان عہدوں کی بھرتی کب ہوگی ابھی تک حکومت سے ضروری اقدامات نہیں ہوپائے ہیں۔ان عہدوں کی بھرتی کیلئے کم از کم دو سال کے وقفہ کی ضرورت ہے۔پولیس اہلکاروں کو مذکورہ عہدوں پر بھرتی کرنے کے بعد انہیں ایک سال تک تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے۔جب تک وہ تربیت مکمل کر کے آئیں اس وقت تک شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتاہے۔ملک کے اہم شہروں کا موازنہ کیا جائے تو بنگلور شہر میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ چینئی میں 47.57لاکھ گاڑیاں ہیں تو وہاں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد3800ہے۔ حیدر آباد میں 45.21لاکھ گاڑیوں کی تعداد تو وہاں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد 3215ہے۔ممبئی میں 27.38 لاکھ گاڑیوں کی تعداد ہے تو ٹریفک پولیس کی تعداد3500ہے۔ جبکہ کرناٹک میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد تو 3459ہے۔ لیکن ان میں 250سے 300اہلکار ہفتہ وری چھٹی میں اور سکینڈ اور دیگر شفٹس میں رہتے ہیں۔اگر ہر دن دونوں شفٹوں میں کام کرنے والے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد صرف 1200ہی ہے۔ شہر میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد اور ٹریفک اژدھام سے گاڑیوں کے مالکان کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ شہر کے اہم سڑکوں اور جنگشنوں پر ٹریفک اژدھام کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد میں مزید اضافہ کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ ٹریفک مسائل کو جلد از جلد حل کیا جاسکے ۔