ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں زوردار بارش سے عام زندگی مفلوج، نشیبی علاقوں کے گھرو ں میں پانی گھس گیا،پیڑ گرنے کا سلسلہ جاری

بنگلورو میں زوردار بارش سے عام زندگی مفلوج، نشیبی علاقوں کے گھرو ں میں پانی گھس گیا،پیڑ گرنے کا سلسلہ جاری

Sat, 26 Aug 2017 11:20:37    S.O. News Service

بنگلورو،25؍اگست (ایس او نیوز)بنگلورومیں طوفانی ہواؤں کے ساتھ ہوئی موسلادھار بارش کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوگئی اور شہر میں اندازے کے مطابق 30؍ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ بارش کی وجہ سے مارتہلی اور اس کے آس پاس علاقوں میں 60؍سے زائد مکانوں میں پانی گھس جانے سے سیلاب جیسا ماحول دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے علاوہ کئی سڑکوں پر درخت بھی زمین بوس ہوچکے تھے۔ کل صبح سے شام تک تیز دھوپ رہی تاہم شام میں اچانک بادل منڈلانے لگے اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ مارتہلی کے آس پاس کے علاقوں میں لگاتار 2؍گھنٹوں تک تیز بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی ندی کے مانند بہنے لگا تھا اور وہاں کھڑی کئی گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ اس کے علاوہ کئی گاڑیاں بارش کی وجہ سے خراب بھی ہوگئیں جس سے اس علاقے میں رات بھر ٹریفک جام رہا۔ ڈوڈانے کندی، گروراج لے آؤٹ، بسوانگر،وگیان نگر،ماروتی نگر، سرسوتی نگر، ایچ بی آر لے آؤٹ بانسواڈی، چیرمین لے آؤٹ کوڈی چکنہلی ، ایچ ایس آر لے آؤٹ، بالاجی لے آؤٹ سمیت دیگر علاقوں کے کئی مکانوں میں پانی داخل ہوگیا۔ پانی 3؍فیٹ تک کھڑا رہا جس کی وجہ سے لوگوں کو رات بھر جاگ کر گزارنی پڑی۔ وہ بالٹیوں کے ذریعہ پانی کو اپنے گھروں سے باہر کرتے رہے۔ برساتی پانی مکانوں کے باورچی خانوں ،کمروں اور بیت الخلاء میں بھی جمع ہوچکاتھا۔ جس سے مکانوں کے فرنیچرز اورساز وسامان پانی میں تیرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ تیز ہواؤں کو دیکھتے ہوئے بیسکام نے کل رات ہی سے بجلی کی سربرائی بند کردی تھی۔ دوسری جانب مہادیوپورہ زون میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ میئر جی۔ پدماوتی کل رات بی بی ایم پی صدر دفتر میں موجود کنٹرول روم میں بیٹھ کر آنے والی شکایتوں کو سننے کے بعد بلدیہ ملازمین کو فوری راحت کاری کے لئے روانہ کرتی رہیں۔ بی بی ایم پی ملازمین نے 20؍سے زائد مقامات پر جہاں درخت گرے ہوئے تھے اور گاڑیوں کو آگے بڑھنے میں رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں۔ فوری پہنچ کر بجلی کے آلات سے درختوں کی ڈالیوں کو کاٹ کر راستہ صاف کیاگیا۔ اس کے علاوہ نشیبی علاقوں میں پمپنگ کے ذریعہ پانی کو باہر کیاگیا۔ چند برساتی نالوں میں کچرا جمع ہونے سے پانی سڑکوں اور مکانوں میں داخل ہوگیا۔ بلڈوزروں کے ذریعہ کچرے کو ہٹاکر پانی کے بہاؤ کو آسان کیاگیا۔ بالاجی لے آؤٹ میں برساتی نالوں پر غیر قانونی قبضہ جات کی وجہ سے سب سے زیادہ مکانوں میں پانی داخل ہوا۔ شہر کے ہیبال، آرٹی نگر ،بائیپنہلی ، راجا جی نگر، ملیشورم، یشونت پور، بسونگڈی ، وجئے نگر،شیواجی نگر، جئے نگر، وہائٹ فیلڈ کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں زبردست بارش ہوئی ہے۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی درخت گرگئے۔ اس کے علاوہ پادرائن پورہ، شیواجی نگر، آر۔ وی کالج اور دیویا پارک میں بھی درخت گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ کل رات دیر تک بارش کی وجہ سے نجی کمپنیوں اور کارخانوں کے ملازمین کو گھر واپس لوٹنے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈوڈنا کندی میں85؍ایچ بی آر لے آؤٹ 64؍ہنے مارینہلی 57؍ورتور 62؍ باگلور 56.5،مارینہلی 42، راجن کنٹے 58.5 مارانائیکنہلی39 ، کے آر پورم 57، ہودی 23، سنگانائیکنہلی46، گنڈگینہلی 50، چک جالا44،ارکیرے 59، وی وی پورم 36؍ سیگہلی45، مارپناپالیہ 19، راجاجی نگر40، راجا راجیشوری نگر47، ناگپور 38، نندنی لے آؤٹ 28، ملی میئر بارش ہوئی ہے۔ چندرا لے آؤٹ میں موجود بڑا برساتی نالہ بھرکر پانی باہر بہنے کی وجہ سے اس کے قریب میں موجود10؍ مکانوں میں پانی گھس گیا جس سے مکانوں میں مقیم ا فراد کو رات بھر جاگ کر گزارنی پڑی۔ ایچ ایس آر لے آؤٹ اور شانتی نگر میں 3؍فیٹ سے بھی زائد پانی جمع ہوچکاتھا جس کی وجہ سے گاڑیوں کے مالکان کو کافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کے آرپورم دیوسندرا وارڈ کے نیتراوتی لے آؤٹ کے نشیبی علاقے میں پانی گھسنے سے مکینوں کو کا فی پریشانی اٹھانی پڑی۔ شہر کے دیویا پارک میں قدیم درخت زمین بوس ہوگئے۔ پادرائن پورہ ،آر وی ڈینٹل کالج، جئے نگر علاقوں میں 10؍سے زائد درخت گرچکے ہیں۔ پدماوتی نے کل رات کنٹرول روم میں بیٹھ کر شکایتوں کو سنتے ہوئے فوری راحت کاری کاموں کے لئے بی بی ایم پی ملازمین کو موقعوں پر روانہ کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ وہیں آج میئر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے معائنہ کیا۔ انہوں نے آج پادرائن پورہ ، بی ٹی ایم لے آؤٹ پدمانا بھا نگر سمیت جن علاقوں میں بارش کی وجہ سے نقصانات ہوئے تھے وہاں راست پہنچ کر معائنہ کرتے ہوئے متاثرین کو دلاسہ دیا۔ اس موقع پر انہوں نے بی بی ایم پی ا فسران کو سخت تاکید کی کہ وہ جن علاقوں میں بارش کی وجہ سے نقصانات پیش آئی ہیں وہاں فوری راحت کاری کاموں میں تیزی لائی جائے۔ 


Share: