ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں برساتی نالوں کا کام مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے بی بی ایم پی کو ہائی کورٹ کا حکم- مزید تاخیر نہ کرنے ڈیویژنل بنچ کی ہدایت

بنگلورو میں برساتی نالوں کا کام مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے بی بی ایم پی کو ہائی کورٹ کا حکم- مزید تاخیر نہ کرنے ڈیویژنل بنچ کی ہدایت

Sun, 17 Dec 2017 11:01:45    S.O. News Service

بنگلورو16 /دسمبر(ایس او نیوز) ہائی کورٹ نے بروہت بنگلور مہانگر پالیکے( بی بی ایم پی) کو حکم دیا ہے کہ شہر کے برساتی نالوں کی مرمت اور تعمیری کام اور اس کے ڈیزائن کے کاموں کے علاوہ برساتی نالوں کی دونوں جانب اونچی دیواریں تعمیر کرنے کا کام مقررہ وقت کے اندر مکمل کریں۔سٹیزنس ایکشن فورم کی جانب سے داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہنگامی چیف جسٹس ایچ جی رمیش اور جسٹس ولی ایس دنیش کمار پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے تعمیری کام تاخیر سے ہوا ہے، انہیں مکمل کرنے کے تعلق سے ابھی تک ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا ہے، جبکہ عرضی گزار کی طرف سے وکیل جینا کھٹوری نے کہا کہ برساتی نالوں کی مرمت اور کیچڑ اور دیگر ناکارہ چیزیں نکالنے کا کام کئی سالوں سے چل رہا ہے، اسے مقررہ وقت کے اندر مکمل نہ کرنے کے نتیجہ میں بارش کے موسم میں برساتی نالے بھرجاتے ہیں، اور گندہ پانی سڑکوں اور مکانوں میں داخل ہوجاتا ہے، برساتی نالے، بارش کے پانی کے بہاؤ کے لئے بنائے گئے ہیں، لیکن یہ نالے کوڑا کرکٹ کے ٹھکانے بن چکے ہیں، بی بی ایم پی کی جانب سے وکیل شری ندی سوامی نے کہا کہ 2006 سے لے کر31 جولائی 2012 تک جملہ177.02 کلو میٹر تک برساتی نالوں کو نئی شکل دی گئی ہے، اور اس کے لئے اب تک 1367 کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے، جس میں سے اب تک 1100 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں نالوں کی لمبائی 800 کلو میٹر طویل ہے، بی بی ایم پی کی حدود میں جملہ 842 کلو میٹر برساتی نالے پھیلے ہوئے ہیں، اور جسٹس دنیش نے بی بی ایم پی وکیل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پہلے سے ہی شہر کو گاربیج سٹی کہا جاتا ہے، اور کوڑا نکاسی کے مسئلہ کو حل کرنے میں بی بی ایم پی ناکام ہے، جس کی وجہ سے اب کوڑا کو برساتی نالوں میں پھینکنے کی شکایتیں ملنے لگی ہیں، ڈویژنل بنچ نے بی بی ایم پی وکیل کے ذریعہ بی بی ایم پی کووارننگ دی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر برساتی نالوں کا جو بھی کام ادھورا ہے، اس کو ایک وقت مقرر کرکے اس مدت کے اندر مکمل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں، بی بی ایم پی وکیل نے بتایا کہ حالیہ برسات کی وجہ سے20 کلو میٹر تک کے برساتی نالوں کو نقصان پہنچا ہے، ان کی مرمت کے لئے96 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں، 389 کلو میٹر طویل برساتی نالوں کو نئی شکل دی گئی ہے، اور453 کلو میٹر کا کام ادھورا ہے، جملہ1988 مقامات پر برساتی نالوں پر غیر قانونی قبضہ جات کئے افراد کو نوٹس جاری کی گئی ہے، اس تعلق سے اراضی دستاویزات محکمہ کے جوائنٹ ڈائرکٹر کے ذریعہ ناجائز قبضہ جات کے تعلق سے جانچ کی جارہی ہے، انہوں نے بتایا کہ یلہنکا، ساؤتھ، ایسٹ اور بمنہلی زون میں غیر قانونی قبضہ جات کا پتا لگانے کے لئے محکمے مال گزاری سے سرویئروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، بقیہ زونس میں سروے کے لئے سرویئروں کو روانہ کرنے محکمہ مال گزاری کے جوائنٹ ڈائرکٹر سے گزارش کی گئی ہے۔جملہ4 زونس میں11.21 ایکڑ برساتی نالوں پر غیر قانونی قبضہ جات ہوئے ہیں، اس اراضی کی قیمت600 کروڑ روپئے ہے، بی بی ایم پی وکیل سری نوی سوامی کے اس بیان پر ڈویژنل بنچ نے ناراضگی جتائی اور کہا کہ برساتی نالوں کے نام پر ہر سال کروڑوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں، یہ رقم کون دیتا ہے، کتنی رقم کنٹراکٹروں کو دی جاتی ہے، برساتی نالوں کا پانی آخر کہاں جاکر ختم ہوتا ہے، اور گندہ پانی کو کہاں بہایا جاتا ہے، اور اس طرح لگاتار سوالات کی بوچھاڑ کرنے سے بی بی ایم پی وکیل ٹک کر کرسی پر بیٹھ گئے، ڈویژنل بنچ نے کہا کہ بیرونی ممالک میں کوڑا سے بجلی کی پیداوار کی جاتی ہے، اور وہ مقامی بلدی اداروں کو بجلی کی سربراہی کرنے کے علاوہ پڑوسی ممالک کو بھی بجلی کی فروخت کرتے ہیں، لیکن بی بی ایم پی کو کیا ہوگیا ہے، پتا نہیں، اگر بی بی ایم پی نے برساتی نالوں کے تعمیری کاموں کو مکمل کرنے کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا تو عدالت مجبور ہوکر اپنی جانب سے تاریخ مقرر کرے گی، اس معاملے کی سماعت اگلے ماہ23 جنوری تک ملتوی کردی۔


Share: