ہبلی ، 23 / جون (ایس او نیوز) مرکزی وزیر برائے اسٹیل و بھاری صنعت ایچ ڈی کمارا سوامی نے بلاری ضلع کے ساندور تعلقہ میں کودرے مکھ اور ایس اے آئی ایل/وی ایس آئی ایل کمپنیوں کو کانکنی کے لئے جنگلاتی زمین لیز پر دینے کی جس پہلی فائل پر دستخط کیے تھے وہی اب ایک بڑے تنازعے کا باعث بن گئی ہے ۔
کمارا سوامی نے ابتدا میں تو اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ 808 ہیکٹر جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی زمین میں تبدیل کرنے کا کام کیا جائے گا ۔ اس کے بعد انہوں نے وضاحت جاری کر دی کہ ان کے وزارتی قلمدان سنبھالنے سے پہلے ہی ریاستی اور مرکزی حکومت کی طرف سے اس منصوبے کو منظوری دی جا چکی تھی اور انہوں نے بس اس کی توثیق کی ہے ۔
جنگلاتی زمین کانکنی کے لئے لیز پر دینے کے نئے حکم نامے کے مطابق بلاری ضلع کے ساندور میں کے آئی او سی ایل کمپنی کو 450 ہیکٹر (زائد از 1000 ایکڑ) زمین اور ایس اے آئی ایل / وی ایس آئی ایل کو 60.7 ہیکٹر (150ایکڑ) زمین پر کانکنی کی اجازت ہوگی ۔
خیال رہے کہ یہ وہی ضلع ہے جہاں پر سن 2000 میں بہت ہی بڑے پیمانے پر غیر قانونی کانکنی کا معاملہ سامنے آیا تھا اور یہ مسئلہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جس کے بعد اس علاقے کو ریڈی برادران کے "بلاری ریپبلک" کے نام سے یاد کیا جانے لگا تھا ۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانکنی کی اس لیز کو حاصل کرنے کے بعد کودرے مکھ کمپنی کو 99,330 درختوں کو اور ایس اے آئی ایل / وی ایس آئی ایل کمپنی کو 29,400 درختوں کو کاٹ کر گرانے کی اجازت مل جائے گی ۔ جو ماحولیات کے لئے خطرناک نقصان کا سبب بنے گا ۔
سماج پریورتن سمودائے (ایس پی ایس) اور نیشنل کمیٹی فار پروٹیکشن آف نیچرل ریسورسس (این سی پی این آر) نے اس نئی لیز کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ماضی میں غیر قانونی کانکنی کے خلاف ان دونوں تنظیموں نے بڑی جد وجہد کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی لیز دینے کا فیصلہ اور جنگلات کو تباہ کرنے کی اجازت دینا سپریم کورٹ کی ان ہدایات کے خلاف ہے جو اس نے بلاری، چترادرگہ اور ٹمکورو میں کانکنی سے متعلق دی ہیں ۔ اگر پچھلی مرکزی اور ریاستی حکومت نے اس کی اجازت دی بھی ہے تو اس پر اب از سر نو غور و خوض ہونا چاہیے ۔
اس تنازعے کے بیچ وزیر برائےجنگلات ایشور کھنڈرے نے ریاست کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے فاریسٹ، ایکولوجی اینڈ اینوائرمنٹ کو نوٹ بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ کودرے مکھ کمپنی کو کانکنی کی لیز دینے والے حکم پر عمل در آمد نہ کیا جائے اور جب تک کمپنی کانکنی سے متعلقہ قوانین کے سلسلے میں سینٹرل ایمپاورڈ کمیٹی (سی ای سی) کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کرتی، تب تک جنگلاتی زمین اس کی تحویل میں نہ دی جائے ۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے بلاری کے ڈپٹی کمشنر سے اس معاملے کی رپورٹ طلب کی ہے ۔