بنگلور:3/جنوری(ایس او نیوز)شہر کے برگیڈ روڈ، کمرشیل اسٹریٹ اور دیگر علاقوں میں سال نو کے جشن کے اہتمام کے مرحلے میں کچھ لڑکیوں کے ساتھ دست درازی اور جنسی ہراسانی کے معاملات پر شہر کی پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے اس سلسلے میں دستیاب سی سی ٹی وی مناظر کی بنیاد پر خاطیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سال نو کے جشن کے اہتمام کے مرحلے میں ایم جی روڈ، برگیڈ روڈ کے علاقوں میں کچھ شرپسندوں کی طرف سے لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی اور ان پر دست درازی کے ساتھ ان کے ساتھ نازیبا حرکتوں کے سلسلے میں کسی بھی طرف سے شکایت درج نہ ہونے کے باوجود اپنے طور پر کارروائی کرنے اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ یہ بات آج شہر کی اڈیشنل کمشنر آف پولیس مالنی کرشنا مورتی نے بتائی۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایم جی روڈ، برگیڈ روڈ اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس کی طرف سے نصب 40 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کے مناظر کا جائزہ لیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی میڈیا کے ذریعہ جوتصاویر اور کلپنگس دکھائی گئی ہیں ان کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سال نو کے اہتمام کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ شرپسندوں کی طرف سے لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر دست درازی کرنے کے علاوہ ان کی عصمت کو نقصان پہنچانے کی عوامی شکایات کی بنیاد پر پولیس نے اس کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ سال نو کے مرحلے میں ان علاقوں میں جشن منانے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے، حالانکہ صورتحال کی نگرانی کیلئے 1500 سے زائد پولیس جوان بھی وہاں متعین تھے، لیکن اس بھیڑ میں شرپسندوں نے صورتحال کا غلط فائدہ اٹھایا۔ پولیس کی طرف سے جب صورتحال کو قابو میں کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیاگیا تو بعض شرپسند جان بوجھ کر لڑکیوں پر گر پڑے اور ان کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے چند کو پولیس نے نشاندہی کرنے کے بعد گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ بڑی تعداد میں جب نوجوانوں کا جم غفیر یہاں اکھٹا تھاتو شرپسندوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ دست درازی کا شکار لڑکیوں نے اگر تھانہ پہنچ کر شکایت کی تو ان کی شناخت کو صیغہئ راز میں رکھتے ہوئے پولیس شرپسندوں کے خلاف کارروائی کیلئے تیار ہے۔ شکایات نہ کرنے کے باوجود بھی ریاستی خواتین کمیشن کی ہدایت کے مطابق پولیس نے اپنے طور پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ کل ہی ریاستی خواتین کمیشن کی چیر پرسن ناگ لکشمی بائی نے پولیس کمشنر کو ہدایت دی تھی کہ اس سلسلے میں خاطیوں کے خلاف پولیس اپنے طور پر کارروائی کرے۔