لندن،20؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)مغربی ملکوں بالخصوص برطانیہ میں اسلام فوبیا کے مکروہ مظاہر کے سامنے آنے کے ساتھ ساتھ نسل پرستانہ رحجانات کے واقعات میں بھی تیزی سیاضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس پر سماجی حقوق کی تنظیموں نے سخت تشویش کا بھی اظہار کیاہے۔ نسل تعصب اور فرقہ وارانہ بغص کی تازہ مثال ہمیں برطانیہ کی ایک میٹرو ٹرین میں دیکھنے کو ملتی ہے جہاں ایک نامعلوم شخص نے ٹرین میں سوار ایک پاکستانی نژاد شہری کو بغیر کسی وجہ کے زور دار طمانچے مارنے کے ساتھ ساتھ برا بھلا کہا۔ اس واقعے پر برطانیہ میں مسلمان کمیونٹی کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ میٹرو ٹرین میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان کو نفرت کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک مختصر ویڈیو فوٹیج میں سامنے آیا ہے۔10سکینڈ کی اس مختصر فوٹیج میں میٹرو ٹرین کے ایک ڈبے میں سوار پاکستانی نژاد شخص پر ایک دھوش موٹے شخص کی طرف سے زور دار تھپڑ مارنے کے ساتھ ساتھ اسے برا بھلا کہا گیا۔
یہ واقعہ لندن میں Upton Parkمیں پیش آیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک شخص ٹرین کی بوگی کے خارجی دروازے کے قریب کھڑا ہوا جہاں اسٹیشن پر اترنا تھا۔ ٹرین کی بریک لگتے ہی اس نے دروازے کے برابر والی سیٹ پر بیٹھے ایک پاکستانی نژاد شہری کو زور دار طانچہ رسید کیا۔ طمانچہ کھانے والا شہری تو ایک دم کو مبہوت اور ساکت رہ گیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ اس کے برابر والی سیٹ پر ایک خاتون مسافر بھی بیٹھی تھی۔ اس نے تھپڑ مارنے والے نسل پرست کا پیچھا گیا اور بھاگتی ہوئی وہ بھی باہر نکلی۔ وہ اونچی آواز میں مسلسل پکار رہی تھی کہ ایک مسافر کے ساتھ بلا وجہ یہ بدسلوکی کیوں کی گئی ہے؟
برطانوی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملزم کو حراست میں لیے لیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری اسٹیشن پر لگے کیمروں سے شناخت کے بعد کی گئی ہے۔ تاہم اسے ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ پولیس اس کے خلاف فرد جرم کی تیاری کے لیے کیس تیار کررہی ہے۔ ملزم کو ایک مسافر پر تشدد کرنے، مسافروں کو پریشان کرنے اور نسل پرستانہ طرزعمل اپنانے جیسے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ اسے دوبارہ 14 نومبرکو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔برطانوی مسلمانوں کی نمائندہ کونسل کے سیکرٹری جنرل نے ایک مسلمان شہری پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے موثر اقدامات کرے اور نسل پرست مجرم کوعبرت کا نشان بنائے۔