ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بجنور میں مسلم لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے بعد اقلیتی طبقے پر حملہ؛ چار مسلم نوجوان جاں بحق؛ پولس اہلکاروں پر جانبداری کا الزام

بجنور میں مسلم لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے بعد اقلیتی طبقے پر حملہ؛ چار مسلم نوجوان جاں بحق؛ پولس اہلکاروں پر جانبداری کا الزام

Sat, 17 Sep 2016 02:50:44    S.O. News Service

بجنور 16/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) یہاں سے قریب چار کلومیٹر دور نجیب آباد روڈ کے قریب موضع پیدہ میں جمعہ کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والوں پر اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ مہلوکین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ واقعے کے بعد پورے ضلع میں سنسنی پھیل گئی ہے، جبکہ اس خونیں سانحہ نے ریاستی راجدھانی لکھنو کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق حالات اب قابو میں ہیں اور پولس کی زائد فورس مختلف علاقوں میں تعینات کی گئی ہے۔
    ممبئی سے شائع ہونے والے معروف اُردو اخبارانقلاب کی رپورٹ کے مطابق مسلم  فرقہ سے تعلق رکھنے والی دو چچا زاد بہنیں بجنور جانے کے لئے جمعہ کو صبح قریب آٹھ بجے گاؤں کے باہر بس اسٹائنڈ پر کھڑی تھیں کہ دوسرے فرقہ کے بعض نوجوانوں نے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی۔ بتایا گیا ہے کہ اُن نوجوانوں کا تعلق نزدیکی موضع نیاگاؤں سے ہے۔ چھڑ چھاڑ کے دوران لڑکیوں کا بھائی وہاں پہنچ گیا جس کی مذکورہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے نوجوانوں سے تکرار شروع ہوگئی، نوبت ہاتھاپائی تک پہنچ گئی مگر دونوں طرف سے کچھ لوگوں نے آگے آتے ہوئے معاملہ کو رفع دفع کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد نیاگاؤں اور نزدیکی موضع کچھ پورہ کے کچھ شرپسندوں نے اُسی چھیڑ چھاڑ پر ہوئے جھگڑے کو بہانہ بناکر پیدہ میں اقلیتی فرقہ کے ایک گھر پر حملہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور پوری تیاری کے ساتھ پہنچے تھے جنہوں نے پڑوس کے مکان پر چڑھ کر اندھادھند گولیاں چلائیں اور پتھراؤ شروع کردیا۔گولی باری میں احسان نامی معذور کی موقع پر ہی موت ہوگئی، کچھ دیر بعد انیس الدین اور سرفراز بھی گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے، جبکہ متاثرہ کنبے کا داماد رضوان جو عید پر اپنی سسرال آیا تھا، حملہ آوروں کی گولی کا شکار ہوگیا۔ اُسے بجنور ضلع اسپتال سے میرٹھ لے جایا جارہا تھا کہ اُس نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ اندھادھند گولی باری اور پتھراؤ میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گولی بار ی کے ساتھ ساتھ شرپسندوں نے  محبوب نامی نائی کی جھونپڑی کو نذر آتش کردیا اور ایک بائک کو بھی آگ لگادی۔ 
    متاثرین کا الزام ہے کہ اس موقع پر داروغہ، ایک سپاہی اور ایک ہوم گارڈ وہاں موجود تھا، مگر انہوں نے  حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے اُلٹا اُنہیں حملہ کے لئے اُکسایا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل آف پولس برائے نظم ونسق دلجیت سنگھ اور داخلہ سکریٹری نے ہنگامی طور پر دوپہر کو ہی بذریعہ ہیلی کاپٹر بجنور کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس بیچ مہلوکین کے گھروالوں نے ایک لاش کو میرٹھ۔ پوڑی قومی شاہراہ پر رکھ کر اپنا سخت احتجاج درج کرایا۔ قومی شاہراہ پر لاش کو رکھ کر احتجاج کرنے سے ٹریفک بری طرح متاثر ہوا، جس کے ساتھ ہی ضلع میں افواہوں کا بھی بازار گرم ہوگیا۔ واقعے کے اطلاع پھیلتے ہی ضلع ہیڈکوارٹرز، اسکول اورکالجوں میں وقت سے پہلے ہی چھٹی دے دی گئی۔ واقعے کی جانکاری ملتے ہی ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ جلت راج اور ایس پی اومیش شری واستو گاؤں پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آور قتل و غارت گری کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ خبر ملی ہے کہ پولس نے ابتدائی کاروائی کے طور پر  اسی گاؤں کے ایک گھر سے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اے ڈی جی پی دلجیت سنگھ، ہوم سکریٹری منی پرساد مشرا سمیت اعلیٰ حکام دوپہر کو ہی بجنور پہنچ گئے اور پولس کو حملہ آوروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی۔  واقعہ کے بعد جب ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ اور بھاری پولس فورس کے ساتھ موضع پیدہ پہنچے تو عوامی غصہ اپنے عروج پر تھا اور متاثرہ بستی کے لوگوں نے احسان کی لاش کو گاؤں کے باہر ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کررہے تھے۔ اس بیچ پولس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوانے کی کوشش کی لیکن ہجوم نے لاش کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا، دوپہر سوا بارہ بجے بعض لیڈروں اور آفسروں کے سمجھانے بجھانے کے بعد لاش ہائی وے سے ہٹائی گئی۔
    اُدھر میرٹھ لے جانے کے دوران دم توڑنے والے رضوان کی لاش کو ججی چوک پر رکھ کر احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے ایس پی سمیت دیگر پولس آفسران کی معطلی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ پولس ملزمین کو بچانے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ جس وقت حملہ ہوا تھا، موقع پر ایک سنئیر افسر موجود تھا جو خاموش تماشائی بنا ہوا تھا۔ تاہم خبر دی گئی ہے کہ واقعے پر دو پولس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔
مہلوکین کے ورثاء کو 20 لاکھ روپئے کی عبوری راحت:  واقعے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُترپردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے مہلوکین کے ورثاء کو بیس بیس لاکھ روپئے اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپئے عبوری راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت امن و امان کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے مرادآباد کے کمشنر کو بھی ہدایت دی کہ وہ متاثرین کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ پہنچائیں۔ اس کے علاوہ ہری رام شرما نے بتایا کہ بجنور میں حالات قابو میں رکھنے کے لئے پی اے سی کی سات کمپنیاں اور آدھا درجن سریع الحرکت فورس کو بھیجا گیا ہے۔ موقع پر پہنچنے والے اے ڈی جی قانون دلجیت سنگھ نے بتایا کہ متاثرہ علاقے کے داروغہ اور سپاہی کو معطل کردیا گیا ہے۔ ملزمین کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کاروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
 


Share: