بنگلورو،26؍جنوری(ایس او نیوز) ریاست میں بجلی کے بحران کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے 2020 تک ہر ایک کو بجلی کیلئے ایک جامع منصوبہ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دن بدن بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے یہ منصوبہ اپنایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس منصوبے سے بجلی کی قلت پر مکمل طور پر قابو پایا جاسکتاہے۔ یہ بات آج ریاستی گورنر واجو بھائی والا نے شہر کے فیلڈ مارشل مانک شا پریڈ گراؤنڈ میں یوم جمہوریہ تقریبات سے مخاطب ہوکر کہی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان منعقدہ 68ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم کشائی کے بعد خطاب کرتے ہوئے گورنرنے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے فلاحی اقدامات اور آنے والے دنوں میں طے شدہ منصوبوں کا اپنے آٹھ صفحات پر مشتمل خطبہ میں خلاصہ کیا۔ گورنر نے کہاکہ مختلف ذرائع سے کرناٹک نے 3657 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس کے ساتھ ہی مختلف بجلی کمپنیوں کے ذریعہ ترسیل کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ گورنر نے بتایاکہ ریاستی حکومت نے گنگا کلیانا اسکیم ، پینے کے پانی کی فراہمی اور آبپاشی پمپ سیٹوں کی فراہمی کی بہت بڑی اسکیمیں مرتب کی ہیں۔ بنگلور ، میسور ، بیدر اور بلاری کی چاروں سرکاری اسپتالوں کو ترقی دئے جانے کے کام کی تکمیل کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ عنقریب ریاست کے ہر تعلقہ میں سرکاری اسپتال کے احاطہ میں ہی ڈیالیسس مراکز کی افزود سہولیات مہیا کرائی جائیں گی اور ساتھ ہی کم قیمت پر اعلیٰ معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔اس مقصد سے ضلع اور تعلقہ اسپتالوں میں جنرک دواؤں کی دکانیں قائم کی گئی ہیں۔ حال ہی میں منعقدہ پراوسی بھارتیہ دیوس کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ریاست میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے 72 ممالک سے 7200 نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کنوشن میں دئے گئے 30اعزازت میں سے دو کرناٹک کے رہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کثرت میں وحدت کی جیتی جاگتی علامت ہے۔ اس ملک میں ہر کوئی امن وامان کے ساتھ زندگی بسر کرے یہ یقینی بنانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی حکومت اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت ہر شعبے میں ریاست کو ترقی کی جانب لے جانے کیلئے جو کوششیں کررہی ہے وہ قابل تعریف ہیں۔ عوام کی فلاح کیلئے حکومت کی طرف سے اپنائی گئی اسکیموں کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت صفائی کے اہتمام میں کرناٹک سرفہرست ہے۔ اسمارٹ سٹی مشن کے تحت ریاست کے منگلور، بلگاوی، شیموگہ، ہبلی ، دھارواڑ ، ٹمکور اور داونگیرے شہروں کو شامل کیاگیاہے، جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔اس منصوبے کیلئے 2016-17کے دوران 776کروڑ روپے جاری ہوئے، جبکہ 2017-18 کے دوران 1188کروڑ روپے جاری کئے جائیں گے، تاکہ ان شہروں کے بنیادی ڈھانچوں کو بہتر بنایا جاسکے۔گورنر نے کہاکہ سرمایہ کاری کے شعبے میں کرناٹک آج ملک کی سر فہرست ریاست ہے۔ 2016تک ریاست میں 1.4لاکھ کروڑ روپیوں کی سرمایہ کاری ہوئی تھی، اور اس سے 15 لاکھ روز گار کے مواقع پیدا ہوئے۔آئی ٹی بی ٹی شعبے میں کرناٹک کی پیش رفت بلا روک جاری ہے۔ اے پی ایم سی نظام کو آن لائن بنانے اور قومی ای مارکیٹ سہولت فراہم کرانے میں کرناٹک کو ملک کی پہلی ریاست قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے اور ٹیکسوں کی وصولی کو بہتر بنانے کیلئے بھی الیکٹرانک انتظامیہ کا سہارا لیا جارہاہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں کرناٹک کے چند سخت اقدامات کی بدولت تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ بنیادی تعلیم کو عام کرنے کیلئے حق تعلیم قانون کو نافذ کرنے کے ساتھ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے اور عصری تقاضوں کے مطابق نئے تعلیمی نظام کو رائج کرنے کیلئے بھی پہل کی گئی ہے۔پروگرام میں وزیر اعلیٰ سدرامیا ، ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کے چیرمین ڈی ایچ شنکر مورتی ، وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج ، پولیس کمشنر پروین سود ، بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام شریک رہے۔اس موقع پر فوج ، بحریہ اور فضائیہ کی ٹکڑیوں کے علاوہ پولیس ، فائر فورس ، این سی سی ، اسکاؤٹس ، گائیڈس اور بڑی تعداد میں اسکولی بچوں نے رنگا رنگ پریڈ کی سلامی گورنر کو پیش کی اور بعد میں تقریباً ڈھائی ہزار اسکولی بچوں نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیا۔