ممبئی ؍ نئی دہلی ،27؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ای ڈی نے این ایس ای ایل منی لانڈرنگ سے جڑے معاملے میں 177کروڑ روپے قیمت کی جائیداد ضبط کی ہے۔ایجنسی نے باضابطہ طور پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ این ایس ای ایل معاملے میں منی لانڈرنگ کی روک تھام قانون کے تحت177.33کروڑ روپے قیمت کی دس غیر منقولہ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ املاک کا کنٹرول میسرز پی ڈی ایگرو پروسیسرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز دنار فوڈز لمیٹڈ کے سریندر گپتا کے پاس تھا۔دونوں کمپنیاں این ایس ای ایل معاملے میں سب سے بڑے فراڈہیں۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس حکم کے ساتھ ہی ابھی تک معاملے میں2,890کروڑ کی جائیداد ضبط کی جا چکی ہے۔نیشنل اسپاٹ ایکسچینج لمیٹڈ (این ایس ای ایل ) میں مبینہ رکاوٹ کے اس معاملے میں تحقیقات کی تشریح کرتے ہوئے ای ڈی نے کہاکہ کمپنی میسرز ڈی ایگرو پروسیسرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے فراڈ کرکے این ایس ای ایل سے بڑی مقدار میں فنڈز لیا ہے۔انہوں نے دھوکہ دہی کرکے فرضی طریقے سے اپنی مصنوعات (دھان ؍گیہوں) فروخت کیا جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔جائیداد کا لین دین ظاہر کرتا ہے کہ اس فراڈ سے جمع کئے گئے فنڈز کا بڑا حصہ میسرز دنار فوڈز لمیٹڈ کے پاس گیا ہے۔یہ میسرز ڈی ایگرو پروسیسرز پرائیویٹ لمیٹڈ سے منسلک کمپنی ہے۔ممبئی پولیس کی اقتصادی جرم شاخ سمیت ای ڈی نے این ایس ای ایل اور اس سے جڑے دوسروں کی تحقیقات کے لئے سال 2013 میں پی ایم ایل کے تحت مقدمہ درج کیا۔ایجنسی کا الزام ہے کہ اس صورت میں ملزمان نے سرمایہ کاروں کو ٹھگنے کی مجرمانہ سازش رچی، انہیں این ایس ای ایل کے پلیٹ فارم پر تجارت کرنے کو کہا، انہوں نے گوداموں کے فرضی رسید بنانے، فرضی اکاؤنٹ جیسے غلط دستاویزات بنائے اور تقریباً13,000سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھوکہ دے کر ان سے 5,600کروڑ روپے ہڑپ لیے۔