بنگلورو،3؍نومبر(ایس او نیوز) شعبۂ صحت میں خدمات انجام دینے کی آڑ میں مریضوں کے استحصال اور ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں کی آج وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے شدید نکتہ چینی کی ۔ آج شہر میں طبی امداد فراہم کرنے کیلئے آئی ریلیف نامی ایک موبائل ایپ کا اجراء کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے جناب روشن بیگ نے کہاکہ شعبۂ صحت میں عام لوگوں کو ہمہ قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان پریشانیوں کو ختم کرنے اور بیماری کی حالت میں مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی صحیح رہنمائی کیلئے سرکاری سطح پر پہل کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ایمبولینسوں کا ایک مافیا سرگرم ہے۔ہنگامی حالات میں مریض یا ان کے رشتہ دار ایمبولینس کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ٹھکانے تک ایمبولینس لے جانے کے بعد ڈرائیور اور عملہ ایسے اسپتالوں کا رخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں سے ان لوگوں کو کمیشن یا فائدہ ملتا ہو۔ انہوں نے اس موقع پر موجود محکمۂ صحت کی پرنسپل سکریٹری شالنی رجنیش سے گذارش کی کہ وہ اس معاملے کی جانچ کریں اور عوام کو کسی طرح کی دشواری نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ صحت میں اپنی خدمات کو ذمہ داری سمجھ کر انجام دینے والے دیانتدار افسران کی کمی نہیں ہے۔اگر ان تمام نے ایک ہوکر کام کیا تو محکمۂ صحت کو بہت حد تک سدھارا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کے باہر جمع ایمبولنسوں کی بڑی تعداد ایک مافیا کی شکل میں کام کرتی ہے۔ جیسے ہی اسپتالوں کی طرف سے مریض کو ایمبولنس میں روانہ کیا جاتاہے یہ مافیا سرگرم ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ جن مریضوں کی اسپتالوں میں موت ہوجاتی ہے ان کے جسد خاکی کو گھروں تک پہنچانے میں بھی بھاری رقومات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ اس سے قبل جناب روشن بیگ نے مریضوں کی رہنمائی کیلئے ترتیب شدہ آئی ریلیف ایپ کا اجراء کیا۔انہوں نے کہاکہ سرکاری طبی خدمات سے بھی اس طرح کے ایپ کا اشتراک ہونا چاہئے یا پھر سرکاری طور پر ایسا کوئی نظام قائم کیا جانا چاہئے، جس سے مریضوں کی بروقت مدد ہوسکے۔