بنگلورو،26؍جنوری(ایس او نیوز) ریاستی کونسل کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کی طرف سے آج گوڈلا سنگما میں سنگولی راینا برگیڈ کا ایک جلسۂ عام منعقد کیاگیا، لیکن اس جلسۂ عام سے ایشورپا کو محض مایوسی ہاتھ لگی ، کیونکہ متوقع تعداد میں لوگ یہاں جمع نہیں ہوئے اور ساتھ ہی مختلف اہم مٹھوں کے سربراہان بھی اس کنونشن سے دور ہی رہے۔ ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کی مخالفت کرتے ہوئے ایشورپا نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کی توقع کے مطابق لوگ یہاں جمع نہیں ہوپائے۔ یہ کہا جارہا تھاکہ پسماندہ طبقات سے وابستہ 25مٹھوں کے سربراہان اس کنونشن میں شریک رہیں گے، لیکن صرف یکا دکا مٹھوں کے قائدین کو چھوڑ کر کوئی بھی اس کنونشن میں نہیں آیا۔ اس سے یہ تاثر بھی قائم ہوگیا ہے کہ مٹھوں کے سربراہوں کی طرف سے پسماندہ طبقات کو حمایت حاصل نہیں ہے۔ایشورپا کو یہ توقع تھی کہ کنونشن میں 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی شرکت ہوگی، لیکن دوپہر ایک گھنٹہ بعد بھی کنونشن میں بچھائی گئیں کرسیاں بھرتی نہیں ہوئیں۔اس کنونشن میں شرکت نہ کرنے بیشتر بی جے پی قائدین کو ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کی وارننگ کارگر ثابت ہوئی، کیونکہ ایشورپا کے علاوہ کوئی بھی بڑا بی جے پی لیڈر اس کنونشن میں نظر نہیں آیا۔ اس سے پہلے کے کنونشنوں میں جن لیڈروں نے شرکت کی تھی وہی یہاں بھی نظر آئے۔ سابق وزراء سوگوڈو شیونا ، ایس اے رویندرا ناتھ، سابق رکن پارلیمان ویرو پاکشپا، سابق میئر وینکٹیش مورتی وغیرہ اس موقع پر موجود تھے۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایشورپا نے کہاکہ کسی بھی حال میں سنگولی راینا برگیڈ سے وابستگی ختم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہاکہ سنگولی راینا برگیڈ کو بند کرکے وہ لوگوں کے ساتھ دھوکہ کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ جتنا بھی دباؤ ان پر ڈالا جائے کسی بھی حال میں وہ برگیڈ سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ اسی لئے اس سے ناطہ توڑنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ریاست میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے یہ تنظیم کام کرے گی۔