نئی دہلی، 11/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) اسوسی ایشن فار ڈیمو کریٹک ریفارمس(اے ڈی آر) کے بعد اب سی پی ایم نے بھی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کےخلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن داخل کردی ہے۔ الیکٹورل بانڈ کے تعلق سےسپریم کورٹ نےایس بی آئی کو۶؍ مارچ کوتفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس پربینک نے عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے۳۰؍ جون کاو قت مانگا تھا۔ اس درخواست پر سپریم کورٹ پیر یعنی آج سماعت کرنے وا لا ہے لیکن اس سے قبل سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نےبینک کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن داخل کی ہے اوراس پرعدالتی حکم کی دانستہ نا فرمانی کرنے کا الزام لگایا ہے۔
سیتا رام یچوری نے اپنی پٹیشن میں یہ بھی کہا ہےکہ ایس بی آئی نے تفصیلات جمع کرنے میں جو عملی دشواریوں کا بہانہ بنایا ہے وہ بھی سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے اوراس کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ ایس بی آئی نے ۳۰؍ جون تک جو مہلت مانگی ہے اس میں اس نے یہ دعویٰ کیا ہےکہ سپریم کورٹ کے دئیے گئے وقت میں ان تفصیلات کا تجزیہ کرنا مشکل ہےکہ کن لوگوں نے الیکٹورل بونڈ خریدے ہیں اورکن لوگوں نے بونڈ کے بدلے پیسےلئے ہیں۔
واضح رہےکہ سپریم کورٹ ایس بی آئی کو تفصیلات فراہم کرنے کیلئے ۶؍ مارچ کی تاریخ دی تھی لیکن اس سے دودن قبل یعنی ۴؍ مارچ کواس نے سپریم کورٹ سے ۳۰؍ جون تک کا وقت مانگ لیا تھاجس پر اپوزیشن نے کافی تنقید کی تھی۔ سیتا رام یچوری نے اپنی پٹیشن میں کہا ہےکہ ایس بی آئی سپریم کورٹ کوتذبذب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہےکہ ا س سے قبل اے ڈی آر نے سپریم کورٹ میں ایس بی آئی کے خلاف عرضی دائر کی تھی اور ایس بی آئی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی اپیل کی تھی۔