تہران،26نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران میں دو مسافر بردار ریل گاڑیوں میں ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم سے کم 40افراد ہلاک اور 100سے زاید زخمی ہوگئے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ مشرقی تہران سے 250کلو میٹر دور ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب اس وقت پیش آیا جب مخالف سمت سےآنے والی دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ دونوں ٹرینوں کی کئی بوگیاں الٹ گئی جس کے نتیجے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور سو سے زاید زخمی ہوئے ہیں۔سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر حسن روحانی نے شمالی صوبہ سیمنان میں ٹرینوں کے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور واقعیکی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔سرکاری ٹی وی پر حادثے کے شکار ہونے والی ٹرینوں کی الٹی ہوئی بوگیاں دکھائی گئی ہیں۔ ان میں سے دو بوگیوں سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ایرانی ہلال احمر کے ترجمان مصطفیٰ مرتضوی نے خبر رساں اداریفارس کو بتایا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ ٹرینوں کے حادثے کے دوران لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
صوبہ سیمنان کے گورنر محمد رضا خباز نیاپنے ایک بیان میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ شاہرارود کے مقام کے قریب ہفت خان ریلوے اسٹیشن پر اس وقت پیش آیا جب مخالف سمت سے آنے والی ایک ٹرین پہلے سے وہاں کھڑی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ حادثہ فنی خرابی اور خراب موسم کا نتیجہ ہے۔ ایران کے دو شہروں مشہد اور تبریز کے درمیان ریل گاڑیوں کی آمد ور فت روک دی گئی ہے۔تبریز شہر کے گورنر نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ ایک ریل گاڑی میں 400مسافر سوار تھے تاہم دوسری کے مسافروں کی تعداد کا پتا نہیں چل سکا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق 100مسافروں کو بہ حفاظت نکال لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 48افراد تا حال لا پتہ ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ وہ علاقے سے خود ہی نکل گئے ہیں یا ہلاک ہوچکے ہیں۔ مرنے والوں میں پٹڑی پر کام کرنیوالے ریلوے کے چار ملازمین بھی شامل ہیں۔