لکھنؤ،29/اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کی طرف سے یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر جانے کی اجازت دیئے جانے پر کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی جانے کی اجازت دی جاتی تو اچھا ہوتا۔مایاوتی نے منگل کو ٹویٹ کر کہا کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد وہاں کی موجودہ حالت کی تشخیص کے لیے یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر بھیجنے سے پہلے مرکزی حکومت اگر اپنے ملک کے، خاص طور پر اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو وہاں جانے کی اجازت دیتی تو بہتر ہوتا۔غور طلب ہے کہ یورپی یونین کے 27 ممبران پارلیمنٹ کا وفد منگل کو جموں و کشمیر کا دورہ کر رہا ہے۔یہ وفد جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے زیادہ تر دفعات کو ہٹائے جانے کے بعد وہاں کی صورتحال کا جائزہ لے گا۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے بعد حکومت نے اس کے لیڈروں کو جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے جانے سے روک دیا تھا جبکہ یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کو وہاں جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، جو صحیح نہیں ہے۔