نئی دہلی، 28؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )قومی دارالحکومت میں اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بند ی کے خلاف آج مظاہرہ کیا جس سے کئی علاقوں میں ٹریفک جام ہوگیا۔سی پی ایم اور سی پی آئی سمیت بائیں بازوکی تمام جماعتوں نے نوٹ بند ی کے خلاف منڈی ہاؤس سے جنتر منتر تک جلوس نکالا۔مظاہرے کی وجہ سے جنترمنترکی طرف جانے والی سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گیا۔جس طریقے سے نوٹ بند ی کولاگو کیا گیا ہے اس کے خلاف کانگریس ’جن آکروش دیوس ‘منا رہی ہے۔کانگریس کی این ایس یو آئی شاخ نے رائے سیناروڈ سے پارلیمنٹ تک احتجاجی مارچ کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن پولیس اہلکاروں نے علاقے میں بیر کیڈنگ لگادی اورانہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کو ناکام کرنے کے لیے بھاری تعدادمیں پولیس فورس کوتعینات کیاگیا۔ مظاہرے کی جگہ پر پانی کی بوچھار کرنے والی گاڑیوں کو بھی تعینات کیا گیا۔نوٹ بندی کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ مرکز کے فیصلے سے لوگوں کو پریشانیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کل ’من کی بات‘میں کہا تھا کہ کیش لیس سماج ہوناچاہیے۔کانگریسی لیڈر نے کہاکہ وزیر اعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے لوگوں کے پاس بینک کھاتے ہیں اور کتنے لوگ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔دہلی ٹریفک پولیس نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے مظاہرے کی وجہ سے کناٹ پلیس کے اندرونی علاقے میں گاڑیوں کی تعداد کافی زیادہ تھیں۔