بنگلورو،19/دسمبر(ایس او نیوز) مساجد اللہ کا گھر اور ملت اسلامیہ کے مراکز ہیں اسی مرکزسے انقلابی کام کئے جا سکتے ہیں ہمارے مساجد اتحاد کی پہچان ہیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی احکامات اور رسولؐ کی تعلیمات سے اسلامی اجتماعیت اور ملجل کر رہنے کی تعلیم دی اس ملک کی تمام جماعتوں کے ذمہ داروں نے اتحاد کی بات کہی ہے۔مساجد کے محراب سے جو خطبات ہوتے ہیں وہ موثر اور مفید ہونا چاہیے۔ علمائے کرام سے گزارش کی جاے کہ ملت کی رہنمائی کریں دعوت دین ملت اسلامیہ کی ذمہ دارای ہے۔ اس ملک میں رہنے والے برادران وطن ہمارے مخاطب ہیں۔ ہندوستان کی مٹی میں اسلام کی بو آتی ہے آج جو لوگ گھرواپسی کی بات کرتے ہیں انشاء اللہ وہ خود حقیقی گھرکی طرف واپس لوٹ کر آئیں گے۔ اس کے لئے ہمیں دعوتی کام کرنا ہوگا۔ غیر مسلم بچوں کے لئے دعاے خیر کریں۔ ان خیالات کااظہار جناب محمد یوسف کنی جنرل سکریٹری جماعت اسلامی ہند کرناٹک یہاں منعقدہ مساجد کونسل اور بورڈ آف وقف کے اشتراک کے پروگرام دار السلام میں شریک ذمہ داران سے کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ انسانوں کی خدمت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ مسجد کے مینارے غریب، نادار، مسکین، یتیم اور ہر پریشان حال انسان کے لئے امید کی کرن بننا چاہئے۔بچے ہمارا مستقبل ہیں انہیں مسجد آنے دیں مسجد آنے پر ان کی ہمت افزائی کریں۔ خواتین کی تربیت پر توجہ دیں۔ مرد حضرات کے لئے تربیت کے کئی مواقع ہیں۔ لیکن ہماری خواتین کے لئے تربیت کے مواقع کم ہیں، جن کے گودوں میں ملت کا مستقبل پروان چڑھتا ہے ان کی تربیت کے لئے زیادہ ذور دینا چاہئے۔ ڈاکٹر سعد محمد بلگامی ناظم میٹرو موجودہ حالات میں ہمارا لائحہ عمل کے عنوان پر اظہار خیال کرتے ہوے فرمایا ملک فرقہ پرست اور فسطائی قوتوں کے قبضے میں ہے۔حالات کو بدلنے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنے کہ ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مساجد کے ذمہ داران اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر امت بنایا ہے ہم تمام انسانوں کے سامنے اللہ کے پیغام اور رسولؐ کی تعلیمات کو پیش کرنا چاہئے۔ انہوں نے میٹرو ایونٹ کا تذکرہ کرتے ہوے فرمایا 19 تا 21 جنوری 2018 کو قدوس صاحب عید گاہ میں مختلف پروگرام منعقد ہوں گے امیر جماعت کے علاوہ ملک کی نامور شخصیات سے استفادہ کا موقع رہے گا۔جناب مجیب اللہ ظفاری اسپیشل آفیسر فار سروے آف وقف پراپرٹیز تحفظ مساجد اور اوقاف کا ذکر کرتے ہوے فرمایا اوقاف کی زمینات اور جائیدادوں کی حفاظت متولی حضرات کریں۔ ہزاروں یکڑ زمین پر قبضہ ہوچکا ہے، اس کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کوشش کرنا ہوگا۔ان ہو نے کہا وقف بورڈ متولی حضرات اور اوقاف کے لئے منتخب ہونے والے نمائندوں کے لئے ضابطے اخلاق کی پابندی اور حلف نامے کے لئے ایک سرکلر جاری کیا ہے۔ اس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ شرکاء کے سوالات بھی رہے۔مولانا مقصود عمران رشادی خطیب و امام سٹی جامع مسجد بنگلور مثالی مسجد کا خاکہ پیش کرتے ہوے کہا مسجد عبادات کی جگہ ہے اور مختلف مسائل کا حل یہیں سے ہونا چاہئے۔ مسجد نبوی ہمارے لئے نمونہ ہے۔رسولؐ کفار و مشرکین کے وفود سے ملاقات بھی کرتے قیدیوں کو مسجد کے ستونوں سے باند ھ دیتے اور یہ مسجد تعلیم و تربیت اور اتحادکا مرکز بھی تھی۔ مولانا نے فرمایا آج ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ مساجد کے ذریعے ملت کی اصلاح ہو نوجوانوں کی تربیت پر خصوصی منصوبہ بنائیں۔ سمیع اللہ خان صدر مساجد کونسل کرناٹک نے افتتاحی کلیمات پیش فرمایا، مولانا طاہر قاسمی صاحب کی تلاوت قرآن سے اجلاس کا آغاز ہوا، جسٹس عبدالرشید صاحب کے ہاتھوں مثالی مسجد کا خاکہ اور مساجد کونسل کا تعارفی فولڈر کا رسم اجرا ء عمل آیا۔ رضوان احمد نے کنوینر شپ کی ذمہ داری ادا کی جناب دلاور عمبر خان سکریٹری کونسل نے اظہار تشکر پیش فرمایا۔